سپریم کورٹ میں عرضیوں پر سماعت 21 جنوری تک ملتوی
سرینگر/ یو این ایس / سپریم کورٹ نے وقف (ترمیمی) قانون 2025 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت آئندہ سال 21 جنوری تک ملتوی کردی ہے۔ عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت دی ہے کہ وہ 31 دسمبر 2026 تک اس معاملے میں اپنی تحریری جوابی عرضیاں اور دیگر دستاویزات مکمل کریں۔جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے منگل کو معاملے کی سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کیں۔ بنچ نے ان درخواست گزاروں کو بھی دو ہفتوں کے اندر باقاعدہ رِٹ درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دی، جن کی درخواستوں کو پہلے ضمنی درخواستوں کے طور پر سماعت کے لیے قبول کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران عدالت میں مقرر نوڈل وکیل نے بتایا کہ اس معاملے میں پہلے پانچ اہم عرضیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جبکہ 135 دیگر عرضیوں کو ضمنی درخواستوں میں تبدیل کیا گیا تھا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تمام فریقین اپنی تحریری معروضات جمع کرائیں، جنہیں یکجا کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے 17 اپریل 2025 کے عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی تعداد کو قابل انتظام رکھنے کے لیے صرف پانچ اہم عرضیوں پر سماعت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث اور منظوری کے بعد وقف (ترمیمی) بل 2025 کو منظوری دی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے 15 ستمبر 2025 کو قانون کی بعض اہم دفعات پر عبوری روک لگا دی تھی، البتہ پورے قانون پر روک لگانے سے انکار کیا تھا۔عدالت نے جن دفعات پر عبوری روک لگائی تھی، ان میں کسی شخص کے لیے وقف قائم کرنے سے قبل کم از کم پانچ سال تک اسلام پر عمل پیرا ہونے کی شرط بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ وقف جائیدادوں کی حیثیت کا تعین کرنے میں ضلع کلکٹر کے اختیارات سے متعلق شق پر بھی روک لگائی گئی تھی۔عدالت نے مرکزی وقف کونسل میں غیر مسلم ارکان کی تعداد 20 میں سے چار جبکہ ریاستی وقف بورڈوں میں 11 میں سے تین تک محدود رکھنے کی ہدایت بھی دی تھی۔اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 21 جنوری 2027 کو ہوگی۔










