’وعدہ کرسی سے بڑا ہے‘:

’وعدہ کرسی سے بڑا ہے‘:

آغا روح اللہ مہدی کی حمایت میں بڈگام میں لوگوں کا اجتماع

سرینگر// یو این ایس / نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کی جانب سے پارٹی سے استعفیٰ دینے کے مجوزہ اعلان سے قبل بڈگام میں ان کے حامیوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جہاں لوگوں نے ان کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے ان کے فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایک نو سالہ بچے کا پلے کارڈ بھی توجہ کا مرکز بنا، جس پر اردو میں درج تھا کہ ’وعدہ کرسی سے بڑا ہے‘۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع بہشتِ زہرا پارک میں جمع ہونے والے لوگوں میں مردوں کے علاوہ بچے بھی شامل تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آغا روح اللہ مہدی نے پارٹی سے استعفیٰ دینے کے حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔نو سالہ دائیم رضا، جو ایک نجی اسکول میں تیسری جماعت کا طالب علم ہے، اپنے والد اور دادا کے ہمراہ سری نگر کے مضافاتی علاقے ہارون سے یہاں پہنچا تھا۔ اس نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ کو ایک اچھا اور ایماندار رہنما قرار دیا۔ تاہم جب اس سے پلے کارڈ پر درج نعرے کا مطلب پوچھا گیا تو وہ اس کی وضاحت نہیں کرسکا۔بچے کے دادا محمد رفیق نے بتایا کہ دائیم رات بھر اس موقع پر آنے کے لیے کافی پ ±رجوش تھا اور اس نے خود یہ پلے کارڈ تیار کیا تھا۔ ان کے مطابق وہ ایک ایسے رہنما کی حمایت کے لیے یہاں آئے ہیں جو سیاست میں سچ بات کرتا ہے۔محمد رفیق نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعتیں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے رہنما کی حمایت کریں گے جسے وہ ایماندار سمجھتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابی مہم کے دوران دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی سمیت یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین، خصوصی پولیس افسران اور آنگن واڑی کارکنوں کے مسائل حل کرنے کے وعدے کیے تھے، تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔مگام کے رہائشی محمد شفیع نے بھی آغا روح اللہ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ رکن پارلیمان نے کافی غور و فکر کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی گزشتہ ایک سال کے دوران عوامی مسائل پر خاطر خواہ توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مفت بجلی کے تحت 200 یونٹ فراہم کرنے اور ایک لاکھ نوکریاں دینے کے انتخابی وعدوں کا بھی حوالہ دیا۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے سوناواری علاقے سے آئے حیات حسین نے کہا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس کے اہم انتخابی مہم چلانے والوں میں شامل تھے، لیکن حکومت قائم ہونے کے بعد پارٹی نے ان کی خدمات کو نظرانداز کیا۔ان کے مطابق آغا روح اللہ نے اپنے مجوزہ فیصلے سے یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے لیے اقتدار اور عہدے سے زیادہ عوام کا اعتماد اور ان کے مسائل کی اہمیت ہے۔قابل ذکر ہے کہ آغا روح اللہ مہدی کے والد آغا سید مہدی 2000 میں اسی تاریخ کو ایک جنگجو حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کے حامیوں کے لیے 3 نومبر کی تاریخ بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔