ایمرجنسی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے اور صفائی ستھرائی کے نظام میں بہتری لانے کی ہدایت
جموں// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبودمحکمہ جات سکینہ اِیتو نے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کا اچانک دورہ کرکے وہاں دستیاب طبی سہولیات، مریضوں کی نگہداشت کے اِنتظامات اور پریمیئر ہیلتھ کیئر ادارے کے مجموعی کام کاج کا جائزہ لیا۔معائینے کے دوران اُنہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبوں بالخصوص ایمرجنسی وارڈ کا دورہ کیا اور طبی سہولیات کی دستیابی، ضروری خدمات کے کام کاج، مریضوں کے اِنتظامات اور صفائی ستھرائی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔وزیر موصوفہ نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے بھی بات چیت کی اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے بارے میں ان سے رائے حاصل کی۔اُنہوں نے مؤثر اور ایمرجنسی ہیلتھ کیئر سسٹم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہسپتال اِنتظامیہ کو ایمرجنسی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے، ضروری طبی خدمات کی چوبیس گھنٹے دستیابی یقینی بنانے اور ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور دیگر معاون ملازمین کی مناسب تعیناتی کو برقرار رکھنے کی ہدایت دِی۔وزیر صحت نے اِس بات پر زو ردیا کہ ایمرجنسی خدمات کسی بھی طبی ادارے کا سب سے اہم جزو ہیں اور انہیں اِنتہائی کارکردگی، فوری اور حساسیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے بالخصوص ایسے معاملات میں جن میں فوری طبی مداخلت کی ضرورت ہو۔اُنہوں نے کہا، ’’میڈیکل ایمرجنسی کے ابتدائی چند منٹ زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ ایمرجنسی کی حالت میں ہسپتال پہنچنے والے ہر مریض کو کسی بھی غیر ضروری تاخیر کے بغیر فوری طبی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ ہماری اوّلین ترجیح بروقت طبی مداخلت، باہمی تال میل اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ہے۔‘‘سکینہ اِیتو نے ایمرجنسی اور حادثات کے معاملات میں گولڈن آور کے مؤثر استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا اور فوری معائینے، تشخیص اور علاج شروع کرنے کے لئے مربوط طریقہ ٔ کاروضع کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے متعلقہ حکام کو ایمرجنسی رسپانس پروٹوکول کو ہموار کرنے، طریقہ کار میں تاخیر کو کم کرنے اور ڈاکٹروں، نرسنگ سٹاف، تشخیصی یونٹوں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ہدایت دی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نازک مریضوں کو بروقت اور مناسب علاج مل سکے۔وزیر صحت و طبی تعلیم نے اِس بات پر زور دیا، ’’گولڈن آور مینجمنٹ کو گائیڈ لائنز تک محدود نہیں رہنا چاہیے، کے اِنتظامات صرف رہنما اصولوں اور ہدایات تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ان پر زمینی سطح پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے۔ جب کوئی مریض شدید بیمار یا زخمی ہو تو ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے۔ ہسپتال اِنتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام ضروری انتظامات پہلے سے موجود ہوں تاکہ علاج شروع کرنے میں کوئی قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔‘‘دورے کے دوران وزیر نے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کی اِنتظامیہ کے ساتھ ایک میٹنگ بھی منعقد کی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے ہسپتال کے تمام حصوں بشمول وارڈوں، کوریڈورز، بیت الخلاؤں، ویٹنگ ائیریاز اور ایمرجنسی شعبے میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں مسلسل اور نمایاں بہتری لانے پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہسپتال کے ماحول کو صاف ستھرا اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق رکھنا مریضوں کی حفاظت، انفیکشن سے بچاؤ اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔اُنہوں نے اِنتظامیہ کو صفائی ستھرائی کے معاملے میں مزید چوکسی اَپنانے کی ہدایت دیتے ہوئے صفائی کے انتظامات کی باقاعدہ نگرانی، بائیو میڈیکل ویسٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے اور صفائی کی ذمہ داری سونپی گئی ایجنسیوں اور ملازمین کی جوابدہی یقینی بنانے پر زور دیا۔وزیر موصوفہ نے کہا، ’’ہسپتال میں صفائی محض ایک انتظامی ضرورت نہیں ہے بلکہ مریضوں کی نگہداشت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ صاف ستھرا اور صحت بخش ماحول انفیکشن کی روکتھام اور مریضوں، تیمارداروں اور طبی عملے کی حفاظت و آرام کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘اُنہوں نے ڈاکٹروں، طبی عملے اور ہسپتال کے منتظمین کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں خطے کے اہم ترین اعلیٰ طبی اداروں میں سے ایک ہے اور اس پر لوگوںکو قابلِ رسائی، سستی اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ایک بڑی ذِمہ داری عائد ہوتی ہے۔وزیر صحت نے دستیاب بنیادی ڈھانچے، طبی آلات اور اَفرادی قوت کے بہترین استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے لئے قائم کی گئی سہولیات کا مریضوں کے فائدے کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنایا جانا چاہیے۔ُنہوں نے ہسپتال انتظامیہ پر زور دیا کہ مریضوں کی نگہداشت سے متعلق خدمات کی قریبی نگرانی برقرار رکھے اورجہاں کہیں بھی کوتاہی نظر آئے بروقت اِصلاحی اقدامات کرے۔سکینہ اِیتو نے کہا، ’’لوگ گورنمنٹ ہسپتالوں میں بے پناہ اعتماد اور توقعات کے ساتھ آتے ہیں۔ اس اعتماد کو معیاری علاج، بروقت طبی خدمات، مناسب سہولیات اور ہمدردانہ رویے کے ذریعے برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذِمہ داری ہے۔ ہر مریض عزت، توجہ اور بہترین ممکنہ علاج کا مستحق ہے۔‘‘اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر میں سرکاری طبی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے جس میں بالخصوص ایمرجنسی خدمات کے ردعمل کو بہتر بنانے، مریضوں کی حفاظت، ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی اور مجموعی طبی خدمات کے معیار کو بلند کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔










