جاوید ڈار نے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی باغبانی اور سائنسی بنیادوں پر فصلوں کے تحفظ پر زور دیا
سری نگر// وزیر برائے زرعی پیداوار،فائنانس، کان کنی اور امدادِ باہمی محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی میں اِنڈین سوسائٹی آف مائیکولوجی اینڈ پلانٹ پیتھالوجی (آئی ایس ایم پی پی) کے 43ویں سالانہ قومی کنونشن سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔یہ کنونشن ’’موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کے تحت پلانٹ پیتھالوجی میں پیش رفت اور چیلنجز‘‘ کے موضوع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ نباتات اور آئی ایس ایم پی پی نے29 سے 31؍اکتوبر تک جاری رہنے والے تین روزہ کنونشن کا مشترکہ اِنعقاد راجستھان کالج آف ایگری کلچر، مہارانا پرتاپ یونیورسٹی آف ایگری کلچر اینڈ ٹیکنالوجی اودے پور کے اِشتراک سے کیا ہے۔وزیر موصوف نے اَپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ایک یاد دو دہائی قبل کشمیر میں عام طور پر اُگنے والی سیب کی کئی اقسام اَب وادی ٌ کشمیر میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے اس تبدیلی کو باغبانی کے بدلتے ہوئے طریقۂ کار سے جوڑتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایسی اقسام اور فصلوں کی نشاندہی اور فروغ ضروری ہے جو معاشی اعتبار سے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ بدلتے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوں۔اُنہوںنے کہا کہ موسم کے بدلتے ہوئے انداز اور بیماریوں کے بڑھتے دباؤ نے زراعت اور باغبانی کے شعبوں کے لئے سنگین چیلنجز پیدا کئے ہیں۔ یہ شعبے پورے جموںوکشمیر میں روزی روٹی سے جُڑے ہوئے ہیں ۔ اُنہوں نے کاشتکاروں کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے، فصلوں کی صحت کا تحفظ کرنے اور زرعی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لئے تحقیق اور عملی اَقدامات پر زور دیا۔وزیر موصوف نے حکومت جموں و کشمیر کے’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے پی ڈِی) ‘کو ایک منفرد اقدام قرار دیا جس کی ملک میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ کسانوں اور کاشت کاروںکو زراعت اور باغبانی کے شعبوں کو زیادہ منافع بخش اور دیرپا بنانے میں مدد کے لئے مالی امداد اور ایک مضبوط سپورٹ سسٹم اہم ہے۔اِس موقعہ پر وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان نے مہما ن ذِی وقار کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پودوں کی اُبھرتی ہوئی بیماریوں، مٹی کی گرتی ہوئی صحت، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی دیرپائی کے تناظر میں کنونشن کا موضوع نہایت بروقت اور اہم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لئے ان مسائل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیوں کہ سیب، زعفران، اخروٹ اور دیگر قیمتی فصلیں خطے کی معیشت میں نمایاں کردار اَدا کرتی ہیں۔اُنہوں نے پودوں کی صحت کے انتظام میں مالیکیولر تشخیص، جینومکس، مائیکرو بایوم تحقیق، آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بیماریوں کی پیش گوئی کے وسیع اِمکانات کو اُجاگر کیا۔پروفیسر نیلو فر خان نے حیاتیاتی طریقوں سے بیماریوں پر قابو پانے، مائیکرو بیل بائیو فارمولیشنز اور بیماریوں کے مربوط انتظام پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ تحقیق پر مبنی حل کسانوں تک پہنچانے کے لئے یونیورسٹیوں، تحقیقی اِداروں، صنعت، حکومت اور زرعی کمیونٹی کے درمیان باہمی تعاون ضروری ہے۔اَفتتاحی سیشن سے کوایٹ ڈائریکٹر آئی سی اے آر نئی دہلی ڈاکٹر کے ایل گجر اورصدر آئی ایس ایم پی پی اور پنجاب ایگری کلچرل یونیورسٹی (پی اے یو) اور مہارانا پرتاپ یونیورسٹی آف ایگری کلچر اینڈ ٹیکنالوجی (ایم پی یو اے ٹی) کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ایس ایس چاہل نے خطاب کیا۔سیکرٹری آئی ایس ایم پی پی ڈاکٹر پوکھر راول نے قومی کنونشن کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقعہ پ ایک سووینئربھی جاری کیا گیا۔اِفتتاحی سیشن کے دوران ڈاکٹر سریش پانڈے کو آئی ایس ایم پی پی کے’چاہل لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ نباتات کے سربراہ اور کنوینر پروفیسر اعجاز احمد وانی نے اِستقبالیہ خطاب پیش کیا جبکہ شعبہ نباتات کے پروفیسر محمد یعقوب بٹ نے ابتدائی کلمات ادا کئے۔ وہ اس تقریب کے آرگنائزنگ سیکرٹری بھی ہیں۔ شعبہ نباتات کے پروفیسر عبدالحمید وانی اس تقریب کے شریک کنوینر ہیں۔اِفتتاحی سیشن کی نظامت کے فرائض پروفیسر انظر احمد کھورو نے انجام دئیے جبکہ شکریہ کی تحریک شریک آرگنائزنگ سیکرٹری ڈاکٹر سجاد النبی نے پیش کی۔اِس پروگرام میں سائنسی موضوعات کے تحت تین۱) نباتاتی امراض کے علم میں جدید پیش رفت،۲)موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق لچکدار زراعت اور موسمیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ بیماریوں کا انتظام۳) دیرپا بیماریوں کا انتظام، مٹی کی صحت اور جدید ٹیکنالوجیز اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔اِس میں لیکچرز، تکنیکی اور پوسٹر سیشنز، طلبأ کے مقابلے، ایوارڈ لیکچرز، ایک پینل ڈِسکشن اور اِختتامی تقریب شامل ہیں۔










