سری نگر//جے اینڈ کے پنجابی ساہت سبھا سری نگر نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈلنگویجز کے اِشتراک سے ٹیگور ہال سری نگر میں پنجابی ساہت سبھا سری نگر کے 59ویں سالانہ دن موقعہ پر ایک روزہ پنجابی سمینار کا اِنعقاد کیا۔اِس تقریب میں جموں و کشمیر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز پنجابی مصنفین، شعرأ، ماہرین تعلیم ، دانشور اور اَدب سے وابستہ شائقین نے شرکت کی۔ تقریب میں پنجابی زبان و ادب کے فروغ کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا سبھا اور کلچرل اکیڈیمی کی جانب سے کی جانے والی اَدبی و ثقافتی سرگرمیوں کو پیش کیا گیا۔اِس موقعہ پر سیکرٹری کلچر ل اکیڈیمی ہرویندر کور،صدر پنجابی ساہت سبھا سری نگر آر ایس راجن، معروف پنجابی شاعر و ادیب اجیت سنگھ مستانہ اور کلچر ل اکیڈیمی کے ’شیرازہ پنجابی ‘ کے مدیرپوپندر سنگھ پارس سمیت دیگر ممتاز شخصیات موجود تھیں۔آر ایس راجن نے مہمانوں اور شرکأ کا خیرمقدم کرتے ہوئے پنجابی ساہت سبھا سری نگر کی سرگرمیوں اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور اس کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔ اُنہوں نے اِس سالانہ تقریب کے اِنعقاد میں تعاون اور اِشتراک کے لئے کلچرل اکیڈیمی کا شکریہ اَدا کیا۔اِس موقعہ پر اجیت سنگھ مستانہ نے خطاب کرتے ہوئے پنجابی ساہت سبھا سری نگر اور کلچرل اکیڈیمی کی جانب سے ادیبوں، شعرأ اور ثقافتی کارکنوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ َادبی محفلیں نہ صرف شاعری اور خیالات کے اِظہار کا ذریعہ ہیں بلکہ نسلوں کے درمیان اہم رابطے کا زریعہ بھی بنتے ہیں جو پنجابی زبان، اَدبی روایات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں۔کلچرل اکیڈیمی کے ’شیرازہ پنجابی‘کے مدیر پوپندر سنگھ پارس نے پروگرام کو بامقصد بنانے میں اکیڈیمی کے تعاون کی سراہنا کی ۔ اُنہوں نے کہا کہ کلچرل اکیڈیمی اَدبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور ادیبوں،شعرأ، فنکاروں اور نوجوان ادبی شائقین کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے ادبی و ثقافتی پروگرام وسیع پیمانے پر شرکت کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہیں اور نوجوان نسل کا پنجابی زبان و ثقافت سے تعلق مضبوط بناتے ہیں۔سیکرٹری کلچرل اکیڈیمی ہر ویندر کور نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لئے پنجابی ساہت سبھا سری نگر کی کوششوں کو سراہا۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر بھر میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے لئے اکیڈمی کی جانب سے فراہم کردہ مختلف اقدامات اور تعاون کا ذکر کیا اور علاقائی ادبی روایت کو مزید مالا مال کرنے کے لئے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ مہمانِ خصوصی ایس جے پال سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پنجابی ساہت سبھا اور کلچرل اکیڈمی پنجابی زبان و ادب کے فروغ اور ترقی کے لئے اہم کوششیں کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے ایسے پروگراموں کے اِنعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں نوجوانوںکو اپنی زبان، ادب اور ثقافتی ورثے سے جڑے رہنے کے لئے بامقصدمواقع فراہم کرتی ہیں۔ایڈیشنل سیکرٹری کلچرل اکیڈیمی لال چند نے اَپنے خطاب میں کہا کہ اکیڈمی جموں و کشمیر کے دُور دراز علاقوں سمیت باقاعدگی سے پنجابی اَدبی و ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کے لئے پُرعزم ہے تاکہ پنجابی کی شانداراَدبی اور ثقافتی روایات معاشرے کے وسیع تر طبقوں تک پہنچ سکیں۔دوسرے سیشن میں ایک شاندار پنجابی لوک ثقافتی پروگرام پیش کیا گیاجس میں صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے لوک فنکاروں نے روایتی پنجابی لوک موسیقی پیش کی۔ ماسٹر کلدیپ شرما اینڈ پارٹی، ٹی آر پریمی اور ارجن سنگھ نے اپنی شاندار پرفارمنس سے سامعین کو محظوظ کیا۔ثقافتی پروگرام کے بعد پنجابی مشاعرہ منعقد ہوا جس میںصوبہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے شعرأ نے اپنا کلام پیش کیا۔ معروف پنجابی شاعر، ادیب اور ادبی شخصیت ڈاکٹر بلجیت سنگھ رینہ نے بھی مشاعرے میں شرکت کی۔اِس پروگرام میں ادبی گفتگو، شاعری اور پنجابی لوک ثقافت کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملا جس میں جموں و کشمیر میں پنجابی زبان کے متنوع پہلوؤں اور اس کے شاندار ثقافتی ورثے کی عکاسی ہوئی۔تقریب کی نظامت کے فرائض رامبیر سنگھ نے اَنجام دئیے جبکہ مدیر شیراہ پنجابی کلچرل اکیڈیمی پوپندر سنگھ پارس نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔










