مندیپ کور نے ’امرت 2.0‘ کے تحت بارہمولہ ، سوپور او رپٹن کیلئے

مندیپ کور نے ’امرت 2.0‘ کے تحت بارہمولہ ، سوپور او رپٹن کیلئے

جی آئی ایس پر مبنی ماسٹر پلانز کے سلسلے میں شراکت داروں کی مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی

بارہمولہ//کمشنر سیکرٹری محکمہ مکانات و شہری تری مندیپ کور نے ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں ’امرت 2.0‘ کے تحت بارہمولہ، سوپور اور پٹن کے لئے تیار کئے جا رہے جی آئی ایس پر مبنی ماسٹر پلانزکے مسودے پر غور و خوض کرنے کے لئے شراکت داروں کی ایک جامع مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں رُکن اسمبلی بارہمولہ جاوید حسن بیگ، ممبر اسمبلی سوپور اِرشاد رسول کار، رُکن اسمبلی پٹن ریاض بیدار، ممبر اسمبلی واگورہ۔کریری عرفان حفیظ لون،ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ ایس ایف حامد، ایڈیشنل ڈیولپمنٹ کمشنر بارہمولہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بارہمولہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوپور، محکمہ مکانات و شہری ترقی اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر اَفسران، عوامی نمائندوں، شراکت داروں، مختلف تنظیموں کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔میٹنگ کے شروعات میں ماسٹر پلانز کے مسودے پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی گئی میں ان تینوں قصبوں کی منظم اور دیرپاترقی کے لئے اہم دفعات، منصوبہ بندی کے مجوزہ اقدامات، زمین کے اِستعمال سے متعلق امور، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات، ترقیاتی ترجیحات اور دیگر پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا۔کمشنر سیکرٹری نے شرکأ کے ساتھ مسودہ منصوبوں کی مختلف دفعات پر تفصیلی بات چیت کی اور ان سے تجاویز اور آرٔطلب کیں۔منتخب نمائندوں اور دیگر شراکت داروںنے شہری ترقی، بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری، عوامی سہولیات، ادارہ جاتی ضروریات اور دیگر مقامی ترجیحات سے متعلق اپنے خیالات اور تجاویز بھی پیش کیں۔رُکن اسمبلی بارہمولہ جاوید حسن بیگ نے بارہمولہ قصبے میں سرکاری اراضی کی محدود دستیابی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور تجویز دی کہ ماسٹر پلان میں مناسب مضافاتی علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں ایسے سرکاری دفاتر اور منصوبے منتقل کئے جا سکیں جن کے لئے عوام کی روزانہ کی بنیاد پر آمدورفت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ممبر اسمبلی سوپور اِرشاد رسول کار نے سرکاری دفاتر کے بکھرے ہوئے مقامات کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ماسٹر پلان میں سوپور کے لئے ایک ’منی سیکرٹریٹ ‘ کی فراہمی کی تجویز دِی۔ممبر قانون ساز اسمبلی واگورہ۔کریری عرفان حفیظ لون نے اِس بات پر زور دیا کہ ماسٹر پلان کے تحت متوقع ترقی دیر پار اور متوازن ہونی چاہیے جس میں خطے کی زرعی و باغبانی اراضی اور روزگار کے مفادات کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات شامل ہوں۔دریں اثنا ریاض بیدار نے پٹن قصبے میں سڑک کو کشادہ کرنے، ٹرک ٹرمینل کی فراہمی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے دستیاب سرکاری اراضی کے مؤثر استعمال کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔مختلف شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی زمین کے استعمال، بنیادی ڈھانچے، مواصلاتی را بطوں، عوامی سہولیات، ٹریفک کے انتظام، اِدارہ جاتی ضروریات اور تینوں قصبوں کی مستقبل کی ترقی سے متعلق مسائل اُٹھائے اور تجاویز پیش کیں۔مندیپ کور نے ان آرأ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماسٹر پلان ایک اہم طویل مدتی منصوبہ بندی کی دستاویز ہے جو بارہمولہ، سوپور اور پٹن کی مستقبل کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور شہری انتظام کی تشکیل کرے گی اور اس لئے اس کے لئے تمام شراکت داروں کے ساتھ وسیع مشاورت کی ضرورت ہے۔کمشنر سیکرٹری نے تمام شراکت داروںپر زور دیا کہ وہ ماسٹر پلان کے مسودوںکا تفصیل سے جائزہ لیں اور مقررہ مدت کے اندر اَپنی تجاویز اور آرأجمع کر یں اور یقین دلایا کہ ماسٹر پلانز کو حتمی شکل دینے اورنوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے تمام آرأکا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ نے تمام شراکت داروں، عوامی نمائندوں، محکموں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ ماسٹر پلان کے مسودے کا بغور جائزہ لیںاور 21 دِنوں کے اندر اپنی تجاویز اور آرأجمع کریں تاکہ ان کا باقاعدہ جائزہ لے کر انہیں ماسٹر پلان میں شامل کیا جا سکے۔بعد میںمندیپ کور نے ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ کے ہمراہ بارہمولہ جیٹی، جانبازپورہ اور مختلف جگہوں کا دورہ کیا اور جاری و مجوزہ ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔