سری نگر// نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے صنعتی کارپوریشنوں میں اَفرادی قوت کو معقول بنانے، سڈکو ( ایس آئی ڈِی سی او)کی اَراضی پر تجاوزات کے مسئلے کو حل کرنے اور جموں و کشمیر کے لئے نظر ثانی شدہ صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لئے اَقدامات شروع کئے ہیں۔نائب وزیراعلیٰ نے رُکن اسمبلی چندر پرکاش گنگا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹنگ وِنگ اور خام مال ڈیپوئوں کی بندش کے بعد ایس آئی سی او پی کے پاس 591فاضل عملہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ فاضل ملازمین فی الوقت 89 روزہ اِنتظامات پر کام کر رہے ہیں۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ جے اینڈ کے سڈکو( ایس آئی ڈِی سی او) کو ریٹائرمنٹس کی وجہ سے مستقل اَفرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔ نشاندہی شدہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایس آئی سی او پی کے فاضل عملے اورجے اینڈ کے سیمنٹس لمیٹڈ کے اہلکاروں کو بھی سڈکو(ایس آئی ڈِی سی او) میں تعینات کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کارپوریشن کے کام کی بلا تعطل انجام دہی کو یقینی بنانے کے لئے جہاں بھی ضرورت ہو، آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ہنرمند اَفرادی قوت کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔سریندر کمار چودھری نے مزید بتایا کہ دیگر کارپوریشنوں کے 30 فاضل ملازمین کو ان کارپوریشنوں میں تعینات کیا گیا ہے جہاں عملے کی کمی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ تعیناتیاں مؤثر کارکردگی کے لئے نشاندہی شدہ اَفرادی ضروریات کے پیش نظر عمل میں لائی گئی ہیں۔اُنہوں نے بلول میں سڈکو (ایس آئی ڈِی سی او )کی اراضی پر تجاوزات کے معاملے پر کہا کہ انسدادِ تجاوزات مہم چلائی گئی تھی جس کے نتیجے میں 45 کنال اراضی کو تجاوزات سے واگزار کیا گیا۔نائب وزیراعلیٰ نے باقی تجاوز شدہ اَراضی کے بارے میں کہا کہ یہ معاملہ 16 ؍جون 2026 ء اور 29 ؍اگست 2026 ء کی مراسلوں کے ذریعے ضلعی اِنتظامیہ کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ضلعی اِنتظامیہ کے ساتھ اس معاملے کو آگے بڑھا رہا ہے اوربقیہ اَراضی کی جلد واگزاری کے لئے تمام ضروری کوششیں کر رہا ہے۔اُنہوں نے اَفرادی قوت، صنعتی زمین، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق نظرثانی شدہ صنعتی پالیسی متعارف کرنے کی حکومتی تجویز پر کہا کہ نظرثانی شدہ صنعتی پالیسی کا مسودہ شراکت داروں کی تجاویز اور آرأکے لئے عوامی سطح پر جاری کیا گیا تھا۔نائب وزیراعلیٰ نے ایوان کومطلع کیا کہ مختلف شراکت داروںسے موصول ہونے والی تجاویز اور آرأ کا جائزہ لینے اور ان پر غور کرنے کے لئے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے محکمہ خزانہ کے انتظامی سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔کمیٹی نے اَب تک شراکت داروںکے ساتھ کئی دور کی میٹنگیں کی ہیں تاکہ ان کی تجاویز پر غور کیا جا سکے اور مناسب نکات کو مسودہ پالیسی میں شامل کیا جا سکے۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نظرثانی شدہ صنعتی پالیسی اس وقت غور و خوض کے آخری مرحلے میں ہے اور توقع ہے کہ ضروری ضابطہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیاجائے گا۔










