لیفٹیننٹ گورنر کا اِدارے کو دُنیا کے بہترین اِداروں میں شامل ہونے کا ہدف مقرر کرنے پر زور
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آئی آئی ایم جموں کے 10 سال مکمل ہونے کے موقعے پر بورڈ آف گورنرز، فیکلٹی، طلبأ، سابق طلبأ اور معزز شخصیات کے ساتھ تقریب میں شرکت کی۔اُنہوں نے آئی آئی ایم جموں کے شاندار سفر کا ذِکر کرتے ہوئے کہ ایک معمولی آغاز سے موجودہ مقام تک پہنچتے ہوئے جو ہندوستان کے تیزی سے ابھرنے والے بزنس سکولز میں سے ایک ہے، اِدارے نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور آئندہ دہائی کے لئے ایک عزم مند لائحہ عمل ترتیب دیا ہے۔اُنہوںنے یاد دِلایا کہ آئی آئی ایم جموں نے ایک دہائی قبل کنال روڈ پر ایک عارضی کیمپس میں صرف 56 طلبأ کے ساتھ شروع کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ادارہ اَب ایک قومی سطح پر تسلیم شدہ اور بین الاقوامی سطح پر منسلک مینجمنٹ تعلیم کا مرکز بن چکا ہے۔۔ اُنہوں نے کہاکہ آئی آئی ایم جموں ملک کا پانچواں آئی آئی ایم ہے جسے اے ایم بی اے اور اِی ایف ایم ڈِی دونوں کی ایکریڈی ٹیشن حاصل ہے۔ اِدارے نے فرانس، مراکش، جنوبی کوریا، یونان، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، پولینڈ، سویڈن، تائیوان اور حال ہی میں برازیل کے اِداروں کے ساتھ تعلیمی شراکت داریاں بھی قائم کی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِدارے کی تحقیقی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 2017 ء میں محض دو مطبوعہ مقالوں سے بڑھ کر اِس برس تقریباً 350 تک پہنچ گئی ہے۔منوج سِنہانے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس سہائے ،فیکلٹی اور بورڈ آف گورنرز کی قیادت میں ایک دہائی پر محیط مسلسل محنت اور کاوشوں کو سراہا۔ اُنہوں نے اِدارے کے ترقیاتی سفر کو ایک ایسا نمونہ قرار دیا جس سے دیگر بزنس سکولز اب تحریک لینے لگے ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’میں نے ایک کے بعد ایک کامیابی کی تفصیلات دیکھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کئی منفرد اقدامات بھی سامنے آئے ہیں جو دیگر بزنس سکولز کے لئے ایک متاثر کن مثال اور رول ماڈل بن چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں لوگ ان کامیابیوں کو ایک معیار اور مثالی نمونے کے طور پر یاد کریں گے اور ان کی تقلید کی کوشش کریں گے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے دُنیا کے تین معتبرترین بزنس سکولوںہارورڈجو کیس بیسڈ لرننگ کے نظم و ضبط پر استوا ر ہے، سٹینفورڈ جس نے سلیکون ویلی کے ذریعے کلاس روم کو حقیقی دنیا کے کاروباری شعبے سے جوڑا اور وارٹن جس نے عالمی سرمایہ کاری کی منڈیوں کی پیچیدگیوں میں مہارت حاصل کیا ،کی بنیاد کی داستانوں کا حوالہ دِیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ان اداروں میں سے ہر ایک نے ہر شعبے میں سب کچھ بننے کی کوشش کے بجائے ایک منفرد تصور کو اَپنایا اور نسل در نسل صبر و استقامت کے ساتھ اس پر عمل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔اُنہوں نے کہا کہ آئی آئی ایم جموں بھی اب اسی طرح کے ایک ایک نقطہ آغاز پرکھڑا ہے اور آنے والے برسوں میںاس کے فیصلے آئندہ دہائیوں تک اس کی شناخت طے کریں گے۔ اُنہوں نے آئی آئی ایم جموں کے لئے چار اہم ترجیحات پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،’’ایک منفرد تعلیمی شناخت کو ترجیح دِی جانی چاہیے۔ مغربی بزنس سکولوںسے حاصل کئے گئے کیس سٹیڈیز پر بنیادی انحصار کرنے کے بجائے آئی آئی ایم جموں کو ہندوستانی کاروباری حقیقتوں پر مبنی کیس رائٹنگ کی اپنی روایت قائم کرنی چاہیے جس میں جموں و کشمیر اور لداخ کو درپیش منفرد لاجسٹک اور کاروباری چیلنجز بھی شامل ہوں۔تجرباتی تعلیم، ہمیں تعلیم کو لیکچر ہال سے باہر لے جانے کی ضرورت ہے۔ ہر طالب علم کو گریجویشن سے قبل ایک حقیقی اور ٹھو س منصوبے پر کام کرنا چاہیے ، خواہ وہ اِدارے کے انٹرپرینیورشپ سینٹرکے ذریعے ہو ، کسی پالیسی چیلنج کے ذریعے ہو یا اس کے سینٹر فار سمال بزنس ڈیولپمنٹ کے تعاون سے مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ براہِ راست کام کے ذریعے ہو۔اُنہوں نے کہا کہ واضح سمت کے ساتھ تحقیق ہماری توجہ کا مرکز ہونی چاہیے۔ ادارے کی تحقیقی پیداوار میں تیز رفتار ترقی کو آگے بڑھاتے ہوئے سرحدی معیشتوں،دیرپا ترقی اور فرنٹیئر اَنٹرپرینیورشپ سے متعلق موضوعات پر مزید توجہ مرکوز کی جانی چاہیے جہاں آئی آئی ایم جموں کی قیادت کے لئے منفر د مقام حاصل ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’پلیس منٹس کو قومی تعمیر کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ مجھے اُمید ہے کہ ایک دہائی کے اندر آئی آئی ایم جموں کے فارغ التحصیل طلبأ بڑی کمپنیوں کی تشکیل نو اور نمایاں کاروباری اداروں کے قیام میں اپنے کردار کے لئے پہچانے جائیں گے۔ ہر گریجویٹ کو 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے قومی مقصد میں اپنا حصہ ادا کرنے والے فرد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔’’اُنہوںنے کہا کہ اَصل اِمتحانات کارپوریٹ بورڈ رومز، مارکیٹوں اور زندگی میں ہی ہوتے ہیں جہاں اعداد و شمار اکثر نامکمل ہوتے ہیں، شراکت داروں کی آرأمختلف ہوتی ہیں اورکوئی اُستاد تیار شدہ جواب فراہم کرنے کے لئے موجود نہیں ہوتا۔منوج سِنہا نے کہا، ’’آئی آئی ایم جموں کی ترقی کو اب نئی دریافتوں میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ آئی آئی ایم جموں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ سرحدی علاقوں کی معیشتوں میں اِنتظامیہ،دیرپا ترقی اور اَنٹرپرینیورشپ کے شعبوں میں کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ عظیم ادارے اس لئے عظیم ہوتے ہیں کہ جب قوم کو مشکل سوالات کا سامنا ہوتا ہے تو وہ جوابات کے لئے انہی کی طرف دیکھتی ہے۔ اگر آئی آئی ایم جموں اگلے دس برسوں میں مکمل اعتماد کے ساتھ اسی طرح آگے بڑھتا رہا تو مجھے یقین ہے کہ اس کا نام پوری دُنیا میں بے حدفخر اور احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔‘‘اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے آئی آئی ایم جموں کی سات کافی ٹیبل کتب بھی جاری کیں۔تقریب میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز (بی او جی)، آئی آئی ایم جموں پدم شری ڈاکٹر ملند پرہلاد کامبلے، سابق چیئرمین بی او جی آئی آئی ایم رام ڈانڈیکر، رُکن بی او جی ، آئی آئی ایم جموں آنند کرپالو، ڈائریکٹر آئی آئی ایم جموں پروفیسر بی ایس سہائے، آپریٹنگ پارٹنر، ایڈونٹ انٹرنیشنل ایس شیواکمار،مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، آئی آئی ایم جموں کے شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی اور طلبأ، ممتاز شہری اور پولیس و سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران موجود تھے۔










