کے سی سی ، اے آئی ایف ، پی ایم ایف ایم اِی ، ایچ اے ڈِی پی کریڈٹ اور دیگر فلیگ شپ سکیموں کی ضلع وار کارکردگی کا جائزہ لیا
سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے محکمہ زرعی پیداوار (اے پی ڈِی) کی ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں نافذ زرعی قرضہ جاتی سکیموں کی پیش رفت اورعمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اے پی ڈِی ڈاکٹر آشیش چندر ورما، منیجنگ ڈائریکر ایچ اے ڈِی پی، جموںوکشمیر دونوں صوبوں کے زراعت، پشوپالن، باغبانی اور ماہی پروری کے ڈائریکٹروں نے شرکت کی جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنروں نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔چیف سیکرٹری نے مختلف قرضہ جاتی سکیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے زرعی مالیاتی سہولیات میں نمایاں وسعت لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ قابل رسائی اور سستی کریڈٹ جموں و کشمیر میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔اُنہوں نے ضلعی اِنتظامیہ اور بینکنگ اِداروں پر زور دیا کہ وہ ان سکیموں کو زیادہ سے زیادہ عزم کے ساتھ آگے بڑھائیں تاکہ اہل کسان، کاروباری اور پروڈیوسر گروپ ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکیں۔اَتل ڈولو نے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) سکیم کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کے سی سی کی مکمل کوریج، موجودہ کھاتوں کی بروقت تجدید اور سکیم کے رہنما خطوط کے مطابق اہل کسانوں کو ملنے والی مراعات کی فوری فراہمی پر زور دیا۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں اور بینکوں کو ہدایت دی کہ سکیم کے تحت دستیاب مراعات اور ان سے فائدہ اُٹھانے کے طریقۂ کار کے بارے میں وسیع پیمانے پربیداری مہم چلائیں تاکہ کسان اس سہولیت سے بھرپور اِستفادہ کر سکیں۔چیف سیکرٹری نے ان علاقوں میں یونیفائیڈ لینڈنگ انٹرفیس (یو ایل آئی) کے تحت آن بورڈِنگ کو تیز کرنے پر زور دیاجہاں اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل ہو چکی ہے۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت دِی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ ریکارڈ اضلاع میں فارمر آئی ڈِی کی جاری جنریشن کے ساتھ مل کر اَپ ڈیٹ رہیں۔اُنہوں نے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او) کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف پی اوز کی استعداد کار میں منظم اِضافہ ضروری ہے تاکہ وہ قرض حاصل کرنے کے قابل اور مالی طور پر مستحکم بن سکیں۔ اُنہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ تربیت یافتہ عملے میں سے مینٹرز مقررکئے جائیں جو ایف پی اوز کی رہنمائی اور معاونت کریں۔میٹنگ میں ضلع وار اور سکیم وار کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور کمزور کارکردگی والے اضلاع کو اپنی پیش رفت بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔میٹنگ میں زرعی مدتی قرضوں کی کارکردگی اور درخواست گزاروں میں سب سے زیادہ مانگ پیدا کرنے والی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے بینکوں کو سرگرمی وار تفصیلی اعداد و شمار فراہم کرنے کی ہدایت دی اور مشن یووا کے تحت ان سرگرمیوں کو شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے پر زور دیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈاکٹر آشیش چندر ورما نے جموں و کشمیر میں زرعی کریڈٹ ایکو سسٹم کا جامع جائزہ پیش کیا اور مختلف سکیموں کی پیش رفت، درپیش چیلنجوں اور مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے روڈ میپ پر روشنی ڈالی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت تقریباً 11.57 لاکھ فعال کے سی سی اکاؤنٹ ہولڈرز موجود ہیں جن میں سے تقریباً 3.5 لاکھ کسانوں نے گزشتہ مالی برس کے دوران بروقت اَدائیگی کی مراعات حاصل کیں۔ مزید بتایا گیا کہ 7.99 لاکھ مستفیدین کو سمارٹ کارڈفراہم کئے گئے ہیں جبکہ خریف سیزن کے دوران پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کے تحت 41 فیصد کوریج حاصل کی گئی۔میٹنگ میں ایگری کلچر اِنفراسٹرکچر فنڈ (اے آئی ایف)، اینمل ہسبنڈری اِنفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈِی ایف)، مائیکرو فوڈ پرسسنگ اَنٹرپرائزز(پی ایم ایف ایم ای)، ایچ اے ڈی پی کریڈٹ، جے کے سی آئی پی کریڈٹ، نیشنل لائیوسٹاک مشن (این ایل ایم) اور پی ایم کسان سمیت اہم سکیموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میںبتایا گیا کہ ایگری کلچر انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت 680 کروڑ روپے کے قرضے منظور کئے گئے ہیں جبکہ جموںوکشمیر کے 392 مستفیدین میں 431 کروڑ روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں۔اِسی طرح پی ایم ایف ایم ای کے تحت مالی برس 2024-25 کے دوران 545 معاملات میں 22 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی۔ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈی پی) کریڈٹ کے تحت 302.78 کروڑ روپے کے قرضے منظور ہوئے جن میں سے مئی 2026 تک 172.69 کروڑ روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔میٹنگ کونیشنل لائیو سٹاک مشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ 132 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 65 معاملات بینکوں میں زیرِ عمل ہیں جبکہ 27 معاملات میں 12.23 کروڑ روپے کی مالی معاونت مرکزی ایگزیکٹیو کمیٹی (سی اِی سی) نے منظور کی ہے۔مزید بتایا گیا کہ ایف پی او فائنانسنگ کے تحت 67 ایف پی اوز کے حق میں 604 کروڑ روپے کے قرضے منظور کئے گئے ہیں جن میں سے 54 ایف پی اوز کو 425 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔پی ایم کسان سکیم کے بارے میںمیٹنگ کا جانکاری دی گئی کہ جموں و کشمیر میں اس وقت تقریباً 9.16 لاکھ فعال مستفیدین موجود ہیں۔ این پی سی آئی اور ای۔کے وائی سی سے متعلق زیر اِلتوأ معاملات میں نمایاں کمی آئی ہے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جا رہا ہے۔میٹنگ کو یہ بھی بتایا گیا کہ آئندہ ’’کھیت بچاؤ ابھیان‘‘ کو یونین ٹیریٹری کے ہر گاؤں تک پہنچنے اور کسانوں میں مختلف زرعی قرضہ جاتی سکیموں کے فوائد کے بارے میں کسانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر وسیع پیمانے پر اِستعمال کیا جائے گا۔










