تاریگامی نے جموں وکشمیر کے ماحولیاتی تحفظ کیلئے اِجتماعی اَقدام پر زور
سری نگر// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ماحولیات ہاؤس کمیٹی نے ’عالمی یومِ ماحولیات‘ کے موقعہ پراَپنی تعارفی میٹنگ ممبر اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کی صدارت میں قانون سازاسمبلی کمپلیکس سری نگر میں منعقد کی۔میٹنگ میں کمیٹی کے ممبران پروفیسر گھارو رام، بلدیو راج شرما، دلیپ سنگھ، شوکت حسین گنائی، جاوید احمد میرچال، ڈاکٹر سجاد شفیع جاوید، ڈاکٹر رمیشور سنگھ اور دیویانی رانا نے شرکت کی۔محمد یوسف تاریگامی نے ممبران کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ایسی کمیٹی کا حصہ بنے ہیں جو انسانوں، جنگلی حیات، نباتات اور حیوانات سمیت آنے والی نسلوں سے متعلق ایک نہایت اہم اور عالمی نوعیت کے مسئلے سے وابستہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ صرف اِنتظامی ذِمہ داری نہیں بلکہ معاشرے اور فطرت کے تئیں ہماری مشترکہ اخلاقی ذِمہ داری ہے۔چیئرمین نے جموں و کشمیر کو درپیش کئی اہم ماحولیاتی مسائل کو اُجاگر کیا جن میں آبی ذخائر کی بڑھتی ہوئی آلودگی، غیر سائنسی کوڑاکرکٹ ڈمپنگ، جنگلات کی کٹائی، پلاسٹک کا بے تحاشہ اِستعمال، گیلی زمینوں کا انحطاط اور سبزہ زاروں میں کمی شامل ہیں۔اُنہوں نے آنچار جھیل اور کشمیر کے دیگر آبی ذخائر کی بگڑتی ہوئی حالت پر گہری تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل آلودگی، ناجائز قبضے اور لاپرواہی خطے کے ماحولیاتی توازن کے لئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔اُنہوںنے جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں جھیلوں، دریاؤں اور جنگلات کی بحالی اور تحفظ کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ غیر منظم شہری کاری، ماحولیاتی اِنحطاط اور موسمیاتی تبدیلیاں حیاتیاتی تنوع، عوامی صحت اور یونین ٹیریٹری کے نازک ماحولیاتی نظام کو بُری طرح متاثر کر رہی ہیں۔کمیٹی کے تمام ممبران نے اَپنی قیمتی تجاویز پیش کیں اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیاکہ یہ کمیٹی جموں و کشمیر کے ماحولیاتی مستقبل کے تحفظ کے لئے اِنتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ممبران نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت اور اِنتظامیہ کمیٹی کی سفارشات کے مؤثر عمل درآمدکے لئے مکمل تعاون اور ضروری اِدارہ جاتی تعاون فراہم کریں۔کمیٹی نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ جموں و کشمیر کے ہر گوشے کا وسیع پیمانے پر دورہ کیا جائے تاکہ عوام سے روبرو رابطہ قائم کر کے زمینی سطح پر ماحولیاتی مسائل کا جائزہ لیا جا سکے اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے لئے ماحولیات کے تحفظ اور بقا کی ضرورت کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کی جا سکے۔ممبران نے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانے، غیر قانونی طور پر کوڑا کرکٹ پھینکنے کی روکتھام، آبی ذخائر اور گیلی زمینوں کی حفاظت، شجرکاری مہمات کو فروغ دینے اور پلاسٹک کے بے دریغ اِستعمال کی حوصلہ شکنی پر سختی سے عمل درآمد اور عوامی شرکت پر زور دیا۔










