نئی دہلی/آئی اے این ایس//ہندوستانی کرکٹ کے عظیم بیٹر سچن ٹنڈولکر نے 15 سالہ نوجوان دھماکو بیٹر ویبھو سوریا ونشی کی زبردست تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک غیر معمولی صلاحیت کا حامل کھلاڑی قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان بیٹرکی گیند کی لائن اور لینتھ کو جلدی سمجھنے اور اپنی پسند کے علاقوں میں شاٹس کھیلنے کی صلاحیت انتہائی متاثر کن ہے۔ سوریا ونشی نے آئی پی ایل 2026 میں راجستھان رائلزکی نمائندگی کرتے ہوئے 237.31 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے 776 رنز بنائے۔ اس دوران انہوں نے 72 چھکے لگائے اور ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کا کرس گیل کا 59 چھکوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ممبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سچن نے کہا کہ ویبھوکی بیٹنگ دیکھنا نہایت دلکش تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا ہرکوئی ویبھو سوریا ونشی کی بات کررہا ہے اور میں نے بھی ان کی بیٹنگ دیکھی۔ وہ واقعی شاندار تھی۔ میرا ماننا ہے کہ وہ ایک خاص صلاحیت کے مالک ہیں۔ صرف گیند کو طاقت سے مارنے کی بات نہیں، بلکہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثرکیا وہ ان کی کلائیوں کا استعمال ہے۔ سچن نے مزید کہا، میدان کے چاروں طرف شاٹس کھیلنے کے لیے مضبوط کلائیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ محض اندھا دھند شاٹس نہیں کھیلتے بلکہ دوسرے بیٹرکے مقابلے میں گیند کی لائن اور لینتھ کو زیادہ جلدی سمجھ لیتے ہیں، جس کی بدولت وہ آسانی سے چھکے لگاتے ہیں۔ سچن نے نوجوان اوپنرکو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے فطری انداز پر قائم رہنا چاہیے اور مسائل کے بجائے ان کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا، میں انہیں یہی مشورہ دوں گا کہ وہ خود جیسے ہیں ویسے ہی رہیں۔ ٹسٹ کرکٹ میں وقت کے ساتھ وہ مختلف چیلنجز سے نمٹنا سیکھ جائیں گے۔ زندگی اورکرکٹ میں مسائل ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایک بیٹرکو ہرگیند پر بولرکی طرف سے ایک نیا چیلنج ملتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ آپ اس کا جواب کیسے تلاش کرتے ہیں۔ سچن کے مطابق ویبھو ایک پراعتماد اور واضح سوچ رکھنے والے کھلاڑی ہیں، اس لیے ان کے فطری کھیل میں غیر ضروری مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ مستقبل میں ویبھو سوریا ونشی ہندوستانی ٹسٹ ٹیم کی نمائندگی کریں گے، تاہم شائقین اور ماہرین کو ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے سے گریزکرنا چاہیے۔ سچن نے کہا، صرف میں ہی نہیں بلکہ ہرکوئی انہیں کسی نہ کسی مرحلے پر ہندوستانی ٹسٹ ٹیم میں دیکھنا چاہے گا۔ تاہم ایک باصلاحیت نوجوان کو حوصلہ افزائی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے تو ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہیے اور اس کے کھیل سے لطف اندوز ہونا چاہیے، نہ کہ مسلسل اس پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ اسے فلاں ٹیم میں منتخب کیا جائے یا فلاں فارمیٹ کھیلنا چاہیے۔ یہ فیصلہ سلیکٹرز پر چھوڑ دینا چاہیے۔










