ملک میں مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کے کھیل نے غیر معمولی ترقی کی:اویس یعقوب

ملک میں مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کے کھیل نے غیر معمولی ترقی کی:اویس یعقوب

اتنی بڑی بین الاقوامی کامیابی کے باوجودمیابی کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی یہ مستحق تھی

سرینگر/کے این ایس/بلغاریہ میں شاندار فتح کے بعد پلوامہ کے مورن گاؤں سے تعلق رکھنے والے اویس یعقوب ملک کے لیے ایم ایم اے کی نئی امید بن گئے۔ اویس یعقوب نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ملک میں مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کے کھیل نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ پہلے اس کھیل کو زیادہ پہچان حاصل نہیں تھی، لیکن آج یہ ملک بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔تاہم انہوں نے شکواہ کیا ہے مکہ اتنی بڑی بین الاقوامی کامیابی کے باوجود مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس کامیابی کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی یہ مستحق تھی ۔کشمیرنیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق انہوں نے مقابلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے ایم ایم اے شائقین اور کھلاڑیوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں، جس کی وجہ سے مقابلے سے قبل وہ شدید دباؤ میں تھے۔ اویس نے کہا، “شاید دیکھنے والوں کو یہ مقابلہ آسان لگا ہو، لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔” اپنی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اویس نے کہا، “میں نے ایک ایسے فائٹر کو شکست دی جو سابق یورپی اور عالمی چیمپئن رہ چکا ہے اور اب بھی اپنے کیریئر کے عروج پر مقابلے کر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی بین الاقوامی کامیابی کے باوجود مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس کامیابی کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی یہ مستحق تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکام کی جانب سے صرف چند تعریفی الفاظ بھی مل جاتے تو ان کے لیے یہ بہت معنی رکھتے۔ انہوں نے کہا، “جب آپ بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں تو حوصلہ افزائی بے حد اہم ہوتی ہے، کیونکہ یہی کھلاڑیوں کو مزید بہتر کارکردگی دکھانے کا جذبہ دیتی ہے۔”اویس یعقوب نے اپنے اہلِ خانہ، دوستوں، اپنے گاؤں کے لوگوں، کشمیر کے عوام اور ملک بھر سے ملنے والی بھرپور حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا، “ایم ایم اے میں ملک کی نمائندگی کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ فتح کے بعد یورپ کی سرزمین پر بھارتی پرچم اٹھانا میری زندگی کے سب سے قابلِ فخر لمحات میں سے ایک تھا۔” انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی سرپرستی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو باصلاحیت کھلاڑیوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ “جو لوگ وسائل رکھتے ہیں، انہیں ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرنی چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا، “اب مجھے حکام سے زیادہ توقعات نہیں رہیں۔ اتنی بڑی کامیابی کے باوجود بہت سے ایسے افراد، جنہیں میری کامیابی کو سراہنا چاہیے تھا، انہوں نے ایک سادہ مبارکباد کا پیغام بھی نہیں دیا۔ جب حوصلہ افزائی ہی نہ ہو تو اسپانسرشپ کی امید رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔”اویس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی برادریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہوں اور ہر معاملے میں صرف سرکاری اداروں پر انحصار نہ کریں۔