بیجنگ ؍ نئی دہلی/ایجنسیز//ہندوستانی میڈیا پر متعدد سیٹلائٹ تصویروں کی بنیاد پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چین اپنے نیوکلیر میزائل ’سائلوس‘ کے قریب وسیع فوجی ڈھانچے تعمیر کر رہا ہے جن میں لانچ پیڈز، بنکرز اور مواصلاتی مراکز شامل ہیں۔ ہندوستانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شمال مغربی صحرائی علاقوں میں 80 سے زائد نئے لانچ پیڈز اور دفاعی تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق یہ منصوبہ چین کی نیوکلیر جوابی حملے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ پہلے حملے کے بعد بھی جوابی کارروائی ممکن رہے۔ تصاویر میں بڑے فوجی مراکز، محفوظ اسلحہ گودام، ایئر فیلڈز اور مواصلاتی نظام بھی دکھائی دیتے ہیں جو نیوکلیر میزائل نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تعمیرات چین کے اسٹریٹجک نیوکلیر دفاع میں ایک بڑی پیش رفت ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی محکمہ دفاع پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ چین اپنی نیوکلیر صلاحیت تیزی سے بڑھا رہا ہے اور 2030ء تک اس کے نیوکلیر ہتھیاروں کی تعداد 1000 تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے حالیہ خطاب میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں چین کی فوجی سرگرمیوں اور دفاعی توسیع پر جائز خدشات موجود ہیں تاہم امریکہ غیر ضروری محاذ آرائی نہیں چاہتا۔ امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ ایشیاء میں ایسا طاقت کا توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے جس میں کوئی بھی ملک بشمول چین، خطہ پر اپنی بالادستی مسلط نہ کر سکے۔










