18 مکانات متاثر، درجنوں خاندان بے گھر، فصلیں، باغات، مویشی اور بنیادی ڈھانچہ تباہ
سرینگر// جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام کے آوورہ گاؤں کے بالائی علاقے میں ہفتہ کی شام بادل پھٹنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے گوجر بستی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے کی زد میں آ کر 18 رہائشی مکانات متاثر ہوئے، جن میں دو مکمل طور پر بہہ گئے، جبکہ درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ سیلاب نے مکئی کی فصلیں، سبزیوں کے کھیت، سیب اور اخروٹ کے باغات، مویشی، پولٹری، لکڑی کے پل اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔یو این ایس کے مطابق مقامی باشندوں کے مطابق بالائی بستی کے 10 اور نچلے حصے کے آٹھ مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ دو مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ سیلابی پانی کے ساتھ آنے والی مٹی، پتھر اور درختوں کے تنے گھروں میں داخل ہو گئے، جس سے گھریلو سامان ملبے تلے دب گیا۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی کی اسکیم، بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کا رابطہ بھی متاثر ہوا۔فاروق احمد پوسوال نے بتایا کہ ان کا خاندان بمشکل جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوا، جبکہ ان کے خاندان کے دو مکانات ناقابلِ رہائش ہو گئے، پولٹری بہہ گئی اور مکئی و سبزیوں کی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ ان کے مطابق 14 افراد پر مشتمل خاندان اس وقت ہمسائے کے گھر میں پناہ لیے ہوئے ہے اور حکومت سے فوری امداد اور بازآبادکاری کی امید رکھتا ہے۔فاطمہ نے بتایا کہ ان کا خاندان جان بچانے کے لیے قریبی جنگل کی طرف بھاگا اور پوری رات بغیر خوراک کے وہاں گزاری۔ اگلی صبح واپس آنے پر معلوم ہوا کہ ایک اکھڑا ہوا درخت ان کے باورچی خانے پر گرنے سے دیوار منہدم ہو چکی تھی۔ ان کے شوہرغلام حسن کھٹانہ نے بتایا کہ ان کا مویشی خانہ، گھریلو سامان اور سیب کا باغ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔یو این ایس کے مطابق محمد شفیع بجاڈنے بتایا کہ ان کی چھ کنال زرعی زمین، مکئی اور سبزیوں کی فصلیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، جبکہ ان کے مکان کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔ جنید احمد کھٹانہ نے کہا کہ ان کے سیب کے باغات اور مکئی کی فصل تباہ ہو گئی، جس سے روزگار کا واحد ذریعہ ختم ہو گیا۔نذیر احمد گیگی نے کہا کہ تباہی پورے گاؤں میں پھیلی ہوئی ہے۔ متعدد مکانات کو شدید نقصان پہنچا، گھریلو سامان ملبے تلے دب گیا، باغات، سبزیوں کے کھیت اور مکئی کی فصلیں تباہ ہو گئیں جبکہ کئی خاندان مویشیوں اور پولٹری سے بھی محروم ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ دیہاتیوں کی تعمیر کردہ لکڑی کی پلیں بھی بہہ گئیں، جبکہ پینے کے پانی کی اسکیم اور بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔دریں اثنا، محکمہ مال کے حکام نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تحصیلدار سلار سجاد احمد نے بتایا کہ مکانات، فصلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد امدادی کارروائیوں سے متعلق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔










