گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں فیکٹر،8 اور ایمیسیزومیب کی کمی دور کرنے کی ہدایت
سرینگر//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے جان بچانے والی ادویات فیکٹر اور ایمیسیزومیب کی شدید قلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر ان کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے تاکہ کسی بھی مریض کو علاج سے محروم نہ ہونا پڑے۔قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے یہ احکامات ہیموفیلیا سوسائٹی آف کشمیر کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کی سماعت کے دوران صادر کیے۔یو این ایس کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ٹی ایچ خواجہ نے ایڈووکیٹ نصیرالاکبر کے ہمراہ عدالت کو بتایا کہ جی ایم سی سری نگر میں فیکٹر-8 اور ایمیسیزومیب کی شدید قلت کے باعث تقریباً 300 ہیموفیلیا مریض متاثر ہو رہے ہیں، جو علاج کے لیے سرکاری طبی مراکز پر انحصار کرتے ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں جی ایم سی سری نگر کے پرنسپل کو ہدایت دی کہ ادویات کی کمی کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ کسی بھی مریض کو علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر ادویات کی فراہمی کے لیے پہلے ہی مطالبہ بھیجا جا چکا ہے تو جموں و کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹڈ یا خریداری و فراہمی کی ذمہ دار دیگر ایجنسیاں بلا تاخیر ادویات فراہم کریں۔بنچ نے جی ایم سی سری نگر کے پرنسپل کو دو ہفتوں کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کی بھی ہدایت دی، جس میں ادویات کی فراہمی بحال رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر فریقین کو درخواست گزار کی اضافی حلف نامہ پر جواب داخل کرنے کے لیے چار ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 10 اگست 2026 مقرر کی ہے۔یو این ایس کے مطابق عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں، بالخصوص ایس ایم ایچ ایس اسپتال سری نگر کے ڈے کیئر سینٹر میں ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے خون جمانے والی ضروری ادویات کی مسلسل اور غیر یقینی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ درخواست کے مطابق ان ادویات کی بروقت دستیابی نہ ہونے کی صورت میں مریضوں کو بے قابو خون بہنے، مستقل جسمانی معذوری اور حتیٰ کہ جان کے ضیاع جیسے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر ادویات کی مسلسل دستیابی ناگزیر ہے۔










