جموںوکشمیر نے لیبر اِصلاحات کی طرف اہم پیش رفت کی ہے
سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میںمرکزی حکومت کی طرف سے نافذ کردہ چار لیبر کوڈز کی عمل آوری کے لئے لیبر و روزگار محکمہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں سیکرٹری محکمہ محنت و روزگار کے علاوہ کمشنر سیکرٹری قانون، ڈائریکٹر جنرل کوڈز، لیبر کمشنر اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ محکمہ کی جانب سے ایک جامع پرزنٹیشن پیش کی گئی جس میں قواعدکی تشکیل، اِدارہ جاتی تیاری، ڈیجیٹل انضمام، بیداری مہمات اور جموں و کشمیر میں نئے لیبر قانونی نظام کو یوٹی بھرمیں فعال کرنے کے روڈ میپ کو اُجاگر کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ نئے لیبر کوڈز ایک اِنقلابی اصلاح ہیں جو محنت کشوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے، سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے، صنعتی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔اُنہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ان قوانین کی مؤثر عمل آوری سے جموں و کشمیر میں جامع اِقتصادی ترقی، روزگار کی باقاعدگی، بہتر اَفرادی حالاتِ کار اور شفاف لیبر گورننس کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔چیف سیکرٹری نے لیبر کوڈز کی عمل آوری کے سلسلے میں محکمہ محنت و روزگار کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ باقی ماندہ قانونی و اِنتظامی کارروائیاں مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں۔چیف سیکرٹری نے محکمہ کو ہدایت دی کہ باقی قواعد کی حتمی منظوری اور نوٹیفکیشن کے عمل کو تیز کیا جائے، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو فعال بنانے کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ تال میل کو مضبوط کیا جائے، قانونی بورڈز کی تشکیل جلد مکمل کی جائے اور محنت کشوں، آجرین اور شراکت داروںکو نئے لیبر فریم ورک سے مکمل طور پر آگاہ کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر بیداری پروگرام جاری رکھے جائیں۔اِس موقعہ پر سیکرٹری محکمہ محنت و روزگار کمار راجیو رنجن نے کہا کہ نئے لیبر کوڈز آزاد ہندوستان کی اہم لیبر اصلاحات میں سے ایک ہیں جس میں 29 مرکزی لیبر قوانین کو چار جامع کوڈز سے تبدیل کیا گیا ہے ۔ ان میں کوڈ آن ویجز 2019، اِنڈسٹریل ریلیشنز کوڈ 2020، کوڈ آن سوشل سکیورٹی 2020 اور آکوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ 2020 شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ان اِصلاحات کا مقصد محنت کشوں کے لئے ایک آسان، شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مزدور دوست نظام قائم کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کاروبار کرنے میں آسانی کو بھی بڑھانا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر نے لیبر کوڈز کی عمل آور ی کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور قواعد سازی کے قانونی عمل کو مکمل کرنے کے معاملے میں ملک کی صف اوّل کی ریاستوں اوریوٹیز میں شامل ہے۔لیبر کمشنر چرندیپ سنگھ نے میٹنگ کو بتایا کہ چاروں لیبر کوڈز کے تحت رولز بنائے گئے ہیں۔ اِنڈسٹریل ریلیشنز کوڈ 2020 کے قواعد متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد سرکاری گزٹ میں باقاعدہ طور پر شائع کئے جا چکے ہیں۔اِسی طرح آکوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ 2020 کے قواعد آخری مرحلے میں ہیںجبکہ کوڈ آن ویجز 2019 اور کوڈ آن سوشل سکیورٹی 2020 کے قواعد منظوری کے بعد اِبتدائی طور پر شائع کئے جا چکے ہیں اور حتمی نوٹیفکیشن سے قبل قانونی مشاورتی عمل جاری ہے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر بھر میں وسیع پیمانے پر بیداری اور عوامی رابطہ پروگرام منعقد کئے گئے ہیں۔ اَب تک تمام 20 اضلاع میں 617 اِنفارمیشن، ایجوکیشن اینڈ کمیونی کیشن (آئی اِی سی ) کیمپ منعقد کئے جا چکے ہیںجس میں تقریباً پانچ لاکھ کارکنوں، آجروں اور شراکت داروں کو نئے لیبر کوڈز کی دفعات اور فوائد کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی 283 صلاحیت سازی پروگرام بھی منعقد کئے گئے جن سے زائد اَز 7,200 افسران، آجرین، ٹریڈ یونین نمائندگان اور دیگر شراکت دار مستفید ہوئے۔ اِس کے علاوہ وزارت محنت و روزگار کے اِشتراک سے خصوصی تربیتی پروگرام بھی منعقد کئے گئے۔پرزنٹیشن کے دوران محکمہ نے نئے لیبر کوڈز کے تحت متعارف کی گئی متعدد اہم اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان میں ہر شعبے کے تمام ملازمین کے لئے کم از کم اجرت کے تحفظ کو یقینی بنانا، نیشنل فلور ویج کی عمل آوری اور چاروں کوڈز میں اجرت کی یکساں تعریف متعارف کرنا شامل ہے تاکہ مزدوروں کو پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر سماجی تحفظ کی سہولیات زیادہ مؤثر انداز میں حاصل ہو سکیں۔چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ ان لیبر کوڈز کی مؤثر عمل آوری کے لئے چار قانونی اداروں کی تشکیل ضروری ہوگی جن میں غیر منظم شعبے کے مزدوروں کے لئے ریاستی سوشل سکیورٹی بورڈ، بلڈنگ اینڈ ادر کنسٹرکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ، سٹیٹ ایڈوائزری بورڈ آن ویجز اینڈ انڈسٹریل ریلیشنز اورپیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایڈوائزری بورڈشامل ہیں۔ یہ ادارے پالیسی رہنمائی فراہم کریں گے اور مختلف فلاحی اقدامات کی نگرانی کریں گے۔محکمہ محنت و روزگار نے ایک جامع نفاذی حکمت عملی بھی پیش کی جس میں خصوصی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کا قیام، بلاک سطح پر شرم سہائیک تعینات کرنا، آئی ٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، قومی لیبر پورٹلز کے ساتھ انضمام، وسیع پیمانے پربیداری مہمات اور اِدارہ جاتی صلاحیت سازی شامل ہے۔میٹنگ کو جانکاری دِی گئی کہ لیبر کوڈز کو مشن موڈ میں جموں و کشمیر میں عملانے کے لئے پہلے ہی محکمہ خزانہ کو 10.44 کروڑ روپے کا ایک تجویز پیش کیا جا چکا ہے۔










