لایریوں کا آڈٹ اور کتابوں کی خریداری کیلئے نیا ایس او پی بنانے کی ہدایت
سرینگر//جموں یونیورسٹی نے متنازع کتاب پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیر کے معاملے کے بعد سخت کارروائی کرتے ہوئے حکومت کی ہدایات کے مطابق بلیک لسٹ قرار دیے گئے مصنفین اور ناشرین کی تمام کتابوں اور مطبوعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام تدریسی شعبوں، مراکز، لائبریریوں اور ڈیجیٹل ذخائر سے ایسے تمام مواد کو فوری طور پر ہٹانے اور آئندہ ان مصنفین یا ناشرین کی کسی بھی اشاعت کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔یو این ایس کے مطابق جامعہ کی جانب سے جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ محکمہ اسکولی تعلیم کے 4 جولائی 2026 کے سرکاری حکم نامے کی روشنی میں لیا گیا ہے، جس کے تحت بعض مصنفین اور ناشرین کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان کی تمام مطبوعات کو جموں و کشمیر بھر کے تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا حکم دیا گیا تھا۔سرکلر کے مطابق بلیک لسٹ کیے گئے مصنفین میں ہلال احمد، سنتوش مینا اور ڈاکٹر سشانت گری شامل ہیں، جبکہاوبیرائے بک سروس، جموں اورانوراگ پرکاشن، نئی دہلی کو بلیک لسٹ ناشرین قرار دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں ان مصنفین یا ناشرین کی کوئی بھی کتاب، جریدہ یا دیگر مطبوعہ مواد خریدنے یا لائبریریوں میں شامل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔یو این ایس کے مطابق انتظامیہ نے تمام ریکٹروں، ڈائریکٹروں، شعبہ جات کے سربراہان اور دھنونتری لائبریری کے انچارج کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام دفاتر، لائبریریوں اور ڈیجیٹل ریپوزٹریز کا مکمل جائزہ لے کر اگر کوئی ممنوعہ مواد موجود ہو تو اسے فوری طور پر ہٹا دیں اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد تعمیلی رپورٹ یونیورسٹی حکام کو پیش کریں۔سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر شعبہ اپنے ڈیپارٹمنٹل ایڈوائزری کمیٹی کے ذریعے کتابوں اور دیگر علمی مواد کی جانچ کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کرے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی کتاب، جریدہ یا اشاعت خریدی یا دستیاب نہ ہو جس میں مبینہ طور پر ملک مخالف، علیحدگی پسند یا قابل اعتراض مواد شامل ہو۔یو این ایس کے مطابق اسی سلسلے میں یونیورسٹی نے تمام لائبریریوں، دفاتر اور ڈیجیٹل ذخائر کا جامع آڈٹ اور معائنہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ ممنوعہ مواد کہیں موجود نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق کتابوں اور تعلیمی مواد کی خریداری کے لیے جلد ہی ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر بھی مرتب کیا جائے گا، جس میں اشاعتوں کی سخت جانچ، ماہرین کی کمیٹی کے ذریعے وقتاً فوقتاً جائزہ اور خریداری کے واضح اصول شامل ہوں گے۔










