شوپیان، رفیع آباد اور ترال میں کسان پریشان، فصل بیمہ اسکیم کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
سرینگر// یو این ایس// وادی کشمیر میں مسلسل بدلتے موسمی حالات اور بار بار ہونے والی ڑالہ باری نے اس بار بھی سیب صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان، پلوامہ اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی علی الصبح اور دوپہر کے اوقات میں ہونے والی شدید ڑالہ باری نے سینکڑوں باغات کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں پھل، شگوفے اور درختوں کی شاخیں نقصان سے دوچار ہوئیں۔ کسانوں اور باغ مالکان نے حکومت سے فوری معاوضہ اور باغبانی شعبہ کو فصل بیمہ اسکیم کے دائرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق شوپیان ضلع کے پنڈورہ، لارگام، گاگرین، کنی پورہ اور زینہ پورہ کے کئی علاقوں میں ڑالہ باری نے باغات کو بری طرح متاثر کیا۔ مقامی باغ مالکان کے مطابق تقریباً 10 سے 15 منٹ تک جاری رہنے والی ڑالہ باری نے باغات میں تیار ہو رہے پھلوں کو نقصان پہنچایا۔ فروٹ منڈی شوپیان کے صدر محمد اشرف وانی نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق 15 سے 20 فیصد تک نقصان ہوا ہے تاہم مکمل سروے کے بعد ہی اصل نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ رواں موسم میں یہ تیسری بار ہے جب شوپیان ژالہ باری کی زد میں آیا ہے، جس سے کسانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایک مقامی باغ مالک فیاض احمد نے بتایا کہ مٹر کے دانوں جتنے اولوں نے ان کے آٹھ کنال پر پھیلے باغ کو بری طرح متاثر کیا۔ ’’پھل بھی متاثر ہوئے اور پتے بھی تباہ ہو گئے،‘‘۔کئی کسانوں نے نقصان کا تخمینہ 25 سے 30 فیصد تک بتایا ہے اور انتظامیہ سے فوری سروے اور معاوضہ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ باغ مالکان کا کہنا ہے کہ ہر سال ژالہ باری، تیز بارشوں اور دیگر موسمی آفات سے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن ان کیلئے کوئی موثر حفاظتی نظام موجود نہیں۔یو این ایس کے مطابق ادھر شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے رفیع آباد، واٹرگام، لیسر، ڈنگی واچھہ، ڈنڈوسہ اور ہدی پورہ علاقوں میں بھی شدید ڑالہ باری نے تباہی مچا دی۔ مقامی لوگوں کے مطابق چند ہی منٹوں میں باغات سفید چادر میں تبدیل ہو گئے اور درختوں سے سیب گرنے لگے۔ لیسر کے ایک باغ مالک علی محمد نے بتایا کہ ڑالہ باری اتنی شدید تھی کہ درختوں پر لگے سیب فوری طور نیچے گرنے لگے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ مسلسل دوسری اور مجموعی طور تیسری ڑالہ باری نے ان کی سال بھر کی محنت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق بیشتر خاندان مکمل طور باغبانی پر منحصر ہیں اور بار بار کی قدرتی آفات دیہی معیشت کیلئے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ باغ مالکان نے حکومت سے فوری مالی امداد اور جامع فصل بیمہ اسکیم نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ادھر جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں بھی قبل از سحر ڑالہ باری اور تیز بارشوں نے سبزیوں، دھان اور سیب کے باغات کو نقصان پہنچایا۔ نگہ بل، زردیہار، مچھامہ، چنکیتار، منڈورہ اور دیگر علاقوں کے کسانوں نے بتایا کہ بارش اب پہلے جیسی نرم اور مسلسل نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ ڑالہ باری، آندھی، بجلی گرنے اور تیز ہوائیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔شوپیان کے ایک بزرگ باغ مالک عبدالرشید نے کہا کہ پہلے کئی کئی دن بارش ہوتی تھی مگر اس سے اتنا نقصان نہیں ہوتا تھا، لیکن اب تقریباً ہر بارش تباہی لے کر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں نے کسانوں کی زندگی غیر یقینی بنا دی ہے۔کشمیر کی باغبانی معیشت، خصوصاً سیب صنعت، وادی کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہزاروں خاندان اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔ شوپیان، سوپور، کولگام اور اننت ناگ کے سیب پیدا کرنے والے علاقوں سے وادی کی بڑی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل موسمی آفات، ڑالہ باری اور غیر متوقع بارشوں نے اس صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر فروٹ گروورس ایسوسی ایشن کے صدر جی ایم بانڈے نے کہا کہ صرف گزشتہ تین ماہ کے دوران شوپیان اور کولگام کے سو سے زائد دیہات ڑالہ باری سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں نقصان مکمل جبکہ بعض مقامات پر 70 سے 80 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ کھاد، اسپرے اور دیگر اخراجات کیلئے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کے ذریعے قرض لیتے ہیں لیکن ایک شدید ڑالہ باری چند منٹوں میں ان کی ساری محنت ختم کر دیتی ہے۔ نہامہ کولگام کے 70 سالہ باغ مالک غلام نبی بٹ نے کہا کہ ’’ہم لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، مگر ایک طوفان سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔‘‘ماہرین موسمیات اور ماہرین ماحولیات نے ان موسمی تبدیلیوں کو موسمیاتی تغیرات اور بڑھتے درجہ حرارت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرولوجی جموں کے ہائیڈرو جیولوجسٹ ریاض احمد میر نے کہا کہ گرم ماحول زیادہ نمی جذب کرتا ہے جس سے مختصر مگر شدید بارشوں، ڑالہ باری اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی ہواؤں اور مرطوب فضائی نظام کے ملاپ کے ساتھ کشمیر کا پہاڑی جغرافیہ بھی ان طوفانوں کو مزید شدت دیتا ہے۔ معروف ماہر موسمیات سونم لوٹس نے بھی کہا کہ مارچ سے ستمبر تک بڑھتا درجہ حرارت ڑالہ باری اور گرج چمک والے طوفانوں کیلئے سازگار حالات پیدا کر رہا ہے۔محکمہ موسمیات جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر مختار احمد نے بھی تسلیم کیا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان موسمی واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر ہونے والی ڑالہ باری اور کلاؤڈ برسٹ کی درست پیشگوئی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔باغبانی محکمہ کے ایک سینئر افسر نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ گرے ہوئے پھل اور پتے فوری طور باغات سے ہٹا دیں اور بیماریوں سے بچاؤ کیلئے مناسب اسپرے کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسان گھبرائیں نہیں بلکہ موسمی صورتحال کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔کسانوں اور باغ مالکان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور جامع فصل بیمہ اسکیم متعارف نہ کی تو ہزاروں باغبانی سے وابستہ خاندان مزید قرضوں اور معاشی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق کشمیر کی معیشت کو بچانے کیلئے باغبانی شعبے کو موسمی آفات سے محفوظ بنانے کیلئے مضبوط اور بروقت امدادی نظام ناگزیر ہے۔










