arshid madani

بھارت کی موجودہ حکومت اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم دو روزہ اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ نفرت کی سیاست کی جگہ اب دھمکی آمیز سیاست نے لے لی ہے، اس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر یہ باور کرانا ہے کہ اب انہیں یہاں ایک مشروط زندگی گزارنی ہوگی اور جو ایسا نہیں کرے گا، اس کی جگہ جیل میں ہوگی، اس طرح کی نئی سیاست قانون اور آئین کی بالادستی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے یہ بات جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کی دو روزہ میٹنگ میں آج اپنے صدارتی خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے لئے کچھ لوگ امن و اتحاد کے ساتھ ایک خطرناک کھلواڑ کر رہے ہیں۔ سیاست کی اس نئی روش سے پورے ملک میں منافرت اور مذہبی شدت پسندی کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے، حالات کچھ اس قدردھماکہ خیز ہوچکے ہیں کہ جس کو دیکھو آگ اگل رہا ہے، مسلمانوں کی تذلیل کررہا ہے اور قانون کے رکھوالے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ ابھی پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہوئے، بطور خاص مغربی بنگال اور آسام میں کھلے عام انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اشتعال انگیزیاں کی گئیں اور مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں بھی دی گئیں، الیکشن جیت لینے کے بعد بھی دھمکیوں کا یہ مذموم سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نومنتخب وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ مسلمانوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا اس لئے ہم ان کا کام نہیں کریں گے، آئین اور جمہوریت دونوں کا مذاق اڑانے جیسا ہے، کیونکہ آئین ہر شہری کو برابر کا حق دیتا ہے اور جمہوریت نے ہر شہری کو اپنی پسند کا لیڈر منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے، اسی لئے الیکشن بھی ہوتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی شہری کسی کو ووٹ نہیں دیتا تو یہ کوئی جرم نہیں ہے، مگر آج کی سیاسیت میں اسے بھی جرم بنا دیا گیا ہے، حکمرانوں نے ڈر اور خوف کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے، لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف ہی سے چلا کرتی ہے۔
مغربی بنگال کے نومنتخب وزیراعلی کے اس بیان “میں صرف ہندوؤں کے لئے کام کروں گا” کو نفرت اور مذہبی شدت پسندی کا جنون قرار دیتے ہوئے انہوں کہا کہ ہر وزیراعلیٰ ایشور کو گواہ بنا کر یہ عہد کرتا ہے کہ میں آئین اور قانون کے مطابق بلا خوف یا رعایت بغیر کسی محبت یا عداوت کے تمام طبقات (All manner of people) کے ساتھ انصاف کروں گا۔ اس عہد کے بغیر نہ کوئی شخص وزیراعلی بن سکتا ہے نہ ہی وہ اس منصب پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز رکھتا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے صاف صاف کہا کہ ملک کو منصوبہ بند طریقہ سے نظریاتی مملکت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہورہی ہے، آئینی اداروں کی بے بسی کی وجہ سے وہ اپنی اس کوشش میں بھی کامیاب ہوتے جارہے ہیں، کئی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ نافذ ہوچکا ہے، اب آسام میں بھی یکساں سول بل لانے کی تیاری ہورہی ہے، ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ “وندے ماترم” جیسے متنازعہ گیت کو قومی گیت قراردیا جاچکا ہے، بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں اسے لازمی بھی قراردیا گیا ہے۔ دوسری طرف مساجد، مقابر اور مدارس کو غیر قانونی کہہ کر مسمار کیا جارہا ہے، مدرسوں کو لے کر ہر روز نئے نئے فرمان جاری ہورہے ہیں گویا یہ تعلیمی ادارے نہ ہوکر ایسے ادارے ہیں جہاں غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔