ہائیڈل پائور پیداوار میں کمی کے باعث تھرمل توانائی پر انحصار برقرار
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر اور لداخ میں فروری 2026 کے دوران بجلی کی زیادہ سے زیادہ (پیک) طلب میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں طلب میں 17 فیصد سے زائد کی منفی تبدیلی سامنے آئی ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق شمالی خطے کی بجلی کی فراہمی سے متعلق عبوری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ فروری کے مہینے میں جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے مجموعی طور پر 2020 ملین یونٹس بجلی کی طلب متوقع تھی، جبکہ دستیاب بجلی 1661 ملین یونٹس رہی۔ اس طرح طلب اور دستیابی کے درمیان تقریباً 17.8 فیصد کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق ناردرن ریجن پاور کمیٹی نے ابتدائی طور پر 980 ملین یونٹس بجلی کی دستیابی کا اندازہ لگایا تھا، تاہم اصل دستیابی اس سے کہیں زیادہ یعنی تقریباً 1660 ملین یونٹس رہی، جس سے اندازوں اور حقیقی صورتحال کے درمیان نمایاں فرق ظاہر ہوتا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ موسم سرما (2025-26) کے دوران خطے میں ہائیڈل پاور کی پیداوار میں کمی کے باعث تھرمل توانائی—خصوصاً کوئلہ اور گیس—پر انحصار بڑھ گیا تھا۔ جنوری 2026 میں جموں و کشمیر اور لداخ تقریباً 999.21 میگاواٹ تھرمل توانائی استعمال کر رہے تھے، جس میں 870.14 میگاواٹ کوئلہ اور 129.7 میگاواٹ گیس سے حاصل کی گئی توانائی شامل تھی۔یو این ایس کے مطابق مزید تفصیلات کے مطابق دونوں خطوں کو ریاستی، نجی اور مرکزی شعبوں سے مجموعی طور پر 3767.44 میگاواٹ بجلی مختص کی گئی تھی، جس میں سے 2673.1 میگاواٹ قابل تجدید ذرائع جبکہ 999.21 میگاواٹ تھرمل توانائی پر مشتمل تھی۔ اس کے علاوہ 95.13 میگاواٹ نیوکلیئر اور 1115.88 میگاواٹ ہائیڈل توانائی بھی استعمال کی جا رہی تھی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ شدید سردیوں کے دوران جموں و کشمیر کو اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرنا پڑا۔ دسمبر میں خطہ اپنی 95 فیصد سے زائد بجلی باہر سے حاصل کر رہا تھا، جبکہ پیک اوقات میں 2900 سے 3100 میگاواٹ اور دیگر اوقات میں 2400 سے 2800 میگاواٹ بجلی درآمد کی جا رہی تھی۔ماہرین کے مطابق فروری میں طلب میں کمی کی بڑی وجہ موسم میں بہتری اور ہیٹنگ کی ضرورت میں کمی ہو سکتی ہے، تاہم توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت بدستور برقرار ہے۔










