education

جموں و کشمیر میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد، نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی منظوری

ایل جی منوج سنہا کی بڑی پیش رفت، یونیورسٹی بل 2026 نافذ، نجی سرمایہ کاری کے دروازے کھل گئے

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کے تحت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر یونیورسٹیز بل 2026 کو منظوری دے دی ہے، جس کے ساتھ ہی یونین ٹیریٹری میں پہلی بار نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔ اس اقدام کو خطے میں تعلیمی ڈھانچے کی توسیع، معیار میں بہتری اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق بل کی منظوری کے بعد اب محکمہ اعلیٰ تعلیم تفصیلی قواعد و ضوابط مرتب کرے گا، جو نجی یونیورسٹیوں کے قیام، ان کے نظم و نسق، تعلیمی معیار اور مالی شفافیت کے اصول طے کریں گے۔ قواعد کے اجراء کے بعد دلچسپی رکھنے والے اداروں اور گروپس سے درخواستیں طلب کی جائیں گی، جن کا جائزہ ایک اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹی لے گی۔ یہ کمیٹی انتظامی سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کی سربراہی میں کام کرے گی اور ہر تجویز کو تکنیکی، مالی اور تعلیمی بنیادوں پر پرکھے گی۔یو این ایس کے مطابق اس کے ساتھ ہی ایک مضبوط ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی جو نجی یونیورسٹیوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے گی، باقاعدہ معائنہ کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام ادارے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور حکومتی ضوابط پر مکمل طور پر عمل کریں۔ اتھارٹی کو شکایات کے ازالے اور خلاف ورزیوں کی صورت میں کارروائی کی سفارش کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔بل میں نجی یونیورسٹیاں قائم کرنے کے لیے سخت اہلیت کے معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ کسی بھی ادارے کو یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے کم از کم تین سال سے رجسٹرڈ ہونا، مضبوط مالی بنیاد رکھنا، مناسب اور قانونی طور پر حاصل شدہ اراضی کی ملکیت، جدید تعلیمی انفراسٹرکچر اور اہل تدریسی عملہ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ درخواست دہندگان کو ایک جامع پراجیکٹ رپورٹ، ادارے کے ویژن اور مقصد کی وضاحت اور مقررہ فیس کے ساتھ حکومت کو درخواست دینا ہوگی۔ مجوزہ یونیورسٹیاں یونٹری نوعیت کی ہوں گی اور ان کا مرکزی کیمپس جموں و کشمیر میں ہی قائم ہوگا، جبکہ ضوابط کے مطابق علاقائی مراکز اور ذیلی ادارے بھی قائم کیے جا سکیں گے۔ذرائع کے مطابق کئی نجی ادارے پہلے ہی حکومت سے رجوع کر چکے ہیں اور اپنی تجاویز پیش کی ہیں، تاہم انہیں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باضابطہ قواعد کے اجراء اور ماہر کمیٹی کی تشکیل تک انتظار کریں۔ اس پیش رفت سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ آنے والے وقت میں جموں و کشمیر میں نجی تعلیمی اداروں کی ایک نئی لہر دیکھنے کو مل سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اس بل کو بھی منظوری دے دی ہے، جو انتظامی اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت مختلف قوانین میں موجود معمولی نوعیت کے جرائم کو ڈی کرمنلائز کیا جائے گا، یعنی قید کی سزاؤں کو ختم کر کے ان کی جگہ جرمانے اور دیگر آسان سزائیں متعارف کرائی جائیں گی۔یہ ترمیم تقریباً 18 قوانین میں تبدیلی لا کر کاروباری طبقے پر عائد غیر ضروری قانونی بوجھ کو کم کرے گی، جس سے ’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘ اور ’ایز آف لیونگ‘ کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ انتظامی نظام بھی زیادہ مؤثر اور شفاف بنے گا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یونیورسٹیز بل اور جن وشواس ترمیمی بل کی منظوری جموں و کشمیر میں بیک وقت تعلیمی اور اقتصادی اصلاحات کی جانب ایک مضبوط پیش رفت ہے، جو خطے میں ترقی، روزگار کے مواقع اور تعلیمی معیار کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔