چیف سیکرٹری نے جموں وکشمیر کے اَضلاع میں کے وِی اور جے این وِی کے قیام کے عمل کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموں وکشمیر کے اَضلاع میں کے وِی اور جے این وِی کے قیام کے عمل کا جائزہ لیا

جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں مرکزی حکومت کے تعلیمی اداروںبشمول جواہر نوودھیا ودیالیہ (جے این وی) اور کیندریہ ودھیالیہ (کے وِی) کے لئے زمین اور بنیادی ڈھانچے کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا جو یا تو غیر فعال ہیں یا فی الحال جموںو کشمیر کے مختلف اَضلاع میں کام کر رہے ہیں۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم ، سیکرٹری ریونیو ، جواہر نوودھیاوددیالیہ سمیتی او رکیندر ودھیالیہ سنگٹھن کی نمائندگی کرنے والے ضلع ترقیاتی کمشنران، ڈائریکٹرسکول ایجوکیشن جموں /کشمیر،ریجنل آفیسر کیندریہ ودھیالیہ سنگٹھن جموںاور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی جبکہ صوبائی کمشنروں او رمختلف اَضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔چیف سیکرٹری نے جائزہ کے دوران ان سکولوں کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کی صورتحال کے حوالے سے ضلع وار اور اِدارہ وار تفصیلات طلب کیں۔ اُنہوں نے بالخصوص مستقل سکول عمارتوں کی تعمیر کے لئے مناسب زمین کی نشاندہی اور دستیابی اور اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی تک ان کے عارضی کام کاج کے لئے کئے گئے اِنتظامات کے بارے میں دریافت کیا۔اُنہوں نے بروقت کارروائی پر زور دیتے ہوئے محکمہ ریونیو کو ہدایت دی کہ وہ شناخت شدہ زمین کو جلد از جلد محکمہ سکولی تعلیم کے حوالے کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ مرکزی ودھیالہ یا سنگھٹن کو مزید کرایہ پر دینے کے لئے کاموں کی جلد تکمیل ممکن ہوسکے۔ اُنہوں نے ان اَضلاع کو ترجیح دینے پر زور دیا جہاں فی الحال کوئی کے وی یا جے این وی موجود نہیں ہے اور ان مقامات پر فوری طور پر تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کی ہدایت دی جہاں عارضی عمارتیں پہلے ہی دستیاب ہیں۔
کمشنر سیکر ٹری محکمہ سکولی تعلیم رام نواس شرما نے میٹنگ کو ہر جے این وی اور کے وی کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور زمین و بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے اضلاع کے لئے منظور شدہ 51 کیندریہ ودھیالیہ میں سے 37 پہلے ہی فعال ہیں جبکہ 14 کے قیام کا عمل جاری ہے۔ ان میں سے تین سکول جس میںدو ضلع رام بن کے رام بن او رگول میں اور ایک ضلع کٹھوعہ کے رام کوٹ میںجلد ہی فعال ہونے کی توقع ہے۔مزید برآں، اُنہوں نے بتایا کہ یونین ٹیریٹری کے لئے 21 جواہر نوودھیا ودیالیہ منظور کئے گئے ہیں جن میں سے 20 پہلے ہی اپنی عمارتوں سے کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع سری نگر کے لئے جے این وی کو ضلع اِنتظامیہ کی جانب سے شناخت شدہ عمارت میں جلد فعال کیا جائے گاجبکہ بعد میں اس کے لئے مستقل ڈھانچہ مناسب جگہ پر تعمیر کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ باقی 11 کے وی بھی قیام کے آخری مراحل میں ہیں جن میں زمین کی نشاندہی اور عارضی عمارتوں کو حتمی شکل دی گئی ہے جبکہ باضابطہ منتقلی کا عمل جاری ہے۔ ان مقامات میں وِجے پور (سانبہ)، بنی اور رام کوٹ (کٹھوعہ)، پنچاری (اودھمپور)، مغل میدان اور ناگسینی (کشتواڑ)، گول اور رام بن (رام بن )، ککریال اور کٹرا (ریاسی)، گلپور (پونچھ)، درگمولہ (کپواڑہ) اور پلوامہ ضلع کے رتنی پورہ اور چندہارا شامل ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنروںنے اَپنے اَپنے اضلاع میں زمین کی شناخت اور عمارتوں کی دستیابی کی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی اور بتایا کہ متعلقہ اِداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے زمین کی منتقلی اور الاٹمنٹ کا عمل شروع کیاگیا ہے۔کیندریہ ودھیالیہ سنگٹھن اور جواہر نوودھیا ودیالیہ سمیتی کے نمائندوں نے بھی ان اِداروں کو جلد فعال بنانے کے لئے اُٹھائے گئے اَقدامات کے بارے میں اپ ڈیٹس کا اشتراک کیا اور آئندہ تعلیمی سیشن سے تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموںوکشمیر میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام شراکت داروں کو ہدایت دی کہ وہ اِن اداروں کو جلد فعال کرنے کو یقینی بنانے کے لئے قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ اِ ن اِداروں میں طلبأ کو معیاری تعلیم کی سہولیت فراہم کی جا سکے۔