پٹواری اور اسکے بھائی سمیت3افراد کے خلاف کیس درج
سرینگر//یو این ایس// شوپیان بینک فراڈ معاملے میں آج اس وقت ایک اہم پیش رفت ہوئی جب پولیس نے ترکہ وانگام کے پٹواری اور اس کے بھائی سمیت3افراد کے خلاف کیس درج کرکے وسیع تحقیقات کا آغاز کیا ۔مذکورہ ملزموں نے مبینہ طور مرحوم محمد یوسف شاہ ساکن ترکہ وانگام شوپیان کے بینک اکاؤنٹ زیرنمبر060004010002319سے ساری رقم اس کے فوت ہونے کے ایک دن بعدغیر قانونی طور نکالی ۔حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ پچھلے سال اس وقت سامنے آیا جب متعدد بینک کھاتوں میں تضادات کی اطلاع ملی، جس سے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں برانچ منیجر کی گرفتاری اور اس کی جائیداد کو ضبط کرلیا گیا۔ایک الگ شکایت میں پولیس اسٹیشن زینہ پورہ نے ایک اور تفتیش شروع کی جب ایک خاتون نے الزام لگایا کہ اس کے مرحوم والد کے بینک اکاؤنٹ میں موجود تمام رقم اس کی موت کے فوراً بعد نکال لی گئی تھی۔شکایت کنندہ، محمد یوسف شاہ کی بیٹی ظریفہ نے بتایا کہ اس نے دریافت کیا کہ اس کے والد کے اکاؤنٹ سے تمام رقوم 14 جنوری 2019 کو نکالی گئی تھیں۔رقم تقریباً 5 لاکھ روپے تھی، جو مبینہ طور پر ملزم مدثر حسن شاہ ولد غلام حسن شاہ ساکن ترکہ وانگام شوپیان نے مرحوم محمد یوسف شاہ کے فوت ہونے کے بعد نکالی جبکہ اس کا بھائی عاشق حسین شاہ (پٹواری ) جسے 20دسمبر 2025کو اینٹی کورپشن بیورو نے پنجورہ شوپیان میں رنگے ہاتھوں 25ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا،کے علاوہ طاہر احمد ساکن باس کوچھن نامی افراد بھی اس بینک فراڈ میں مبینہ طور ملوث ہیں ۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا، ’’تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ مدثر حسن شاہ نے دھوکہ دہی سے متوفی کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوائی‘‘۔اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن زینہ پورہ میں ایف آئی آر نمبر 31/2026 زیر دفعات 316(2), 318/2 and 319/2کے تحت کیس درج کیا گیا ۔پولیس معاملہ کی مزید تحقیقات کررہی ہے اور اس سلسلے میں جلدگرفتاریاں اور مزیدانکشافات متوقع ہیں ۔اس کیس کا تعلق سابقہ بدعنوانی کے واقعے سے بھی ہے جس میں ملزم کا بھائی ملوث ہے۔ عاشق حسین شاہ، جو کہ پٹواری ہے، کو انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے 20 دسمبر کو شوپیاں کے علاقے پنجوراہ میں پر 25,000 روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔پولیس نے کہا کہ یہ پیش رفت مبینہ بدانتظامی کے نمونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔مقامی لوگوں نے پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جس میں ملزمان سے منسلک کسی بھی غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے اثاثوں کی نشاندہی اور ضبطی شامل ہے۔










