dooran news

13 سال بعد تقرری کالعدم محکمہ تعلیم نے تمام فوائد کی وصولی کا حکم دیا

سرینگر/ / یو این ایس / ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر نے سری نگر کے راولپورہ سے تعلق رکھنے والے امتیاز احمد کی اسکول ایجوکیشن محکمہ میں مبینہ تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے قانون کی نظر میں ابتدا ہی سے غیر مو ¿ثر قرار دیا ہے۔ محکمہ کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ 2013 میں تقرری اور بعد میں 2018 میں بطور استاد ترقی سے متعلق جن احکامات کا حوالہ ان کے سروس ریکارڈ میں موجود تھا، وہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے جاری ہی نہیں کیے گئے تھے۔ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر کی جانب سے جاری آرڈر نمبر 347-DSEK آف 2026، مو ¿رخہ 3 ستمبر 2026 کے مطابق امتیاز احمد بوائز مڈل اسکول گگری بل، زون نشاط سری نگر میں استاد کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ 21 فروری 2024 سے بغیر اجازت ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے۔محکمہ کے مطابق امتیاز احمد کو مبینہ طور پر گورنمنٹ آرڈر نمبر 395-GAD آف 2013، مو ¿رخہ 2 اپریل 2013 کے ذریعے اسکول ایجوکیشن محکمہ میں لیبارٹری اسسٹنٹ مقرر کیا گیا تھا۔ اس تقرری کے حوالے سے ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کی جانب سے 3 اپریل 2013 کی ایک توثیقی تحریر بھی ظاہر کی گئی تھی۔ بعد میں انہیں 30 جولائی 2018 کے آرڈر نمبر 1004-DSEK آف 2018 کے تحت استاد کے عہدے پر ترقی دی گئی۔تاہم سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے دوران ڈائریکٹوریٹ نے پایا کہ نہ تو مذکورہ تقرری کا کوئی اصل حکم مجاز اتھارٹی کی جانب سے جاری ہوا تھا، نہ ہی اس کی توثیق اور بعد میں ترقی کا حکم سرکاری ریکارڈ میں موجود تھا۔معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امتیاز احمد 2023-24 کے سرمائی تعطیلات کے بعد 21 فروری 2024 سے مسلسل غیر حاضر رہے۔ زونل ایجوکیشن آفیسر نشاط نے 31 مئی 2024 کو انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دن کے اندر ڈیوٹی پر واپس آنے کی ہدایت دی، تاہم محکمہ کے مطابق ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔چیف ایجوکیشن آفیسر سری نگر نے 15 اکتوبر 2024 کو معاملہ ڈائریکٹوریٹ کے علم میں لایا، جس کے بعد سروس ریکارڈ کی تفصیلی جانچ شروع کی گئی۔ ڈائریکٹوریٹ نے 16 فروری 2026 کے آرڈر کے ذریعے چیف ایجوکیشن آفیسر سری نگر کو انکوائری افسر مقرر کیا۔ انکوائری رپورٹ 25 اپریل 2026 کو ڈائریکٹوریٹ کو پیش کی گئی۔رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ نے 19 جون 2026 کو امتیاز احمد کو آخری نوٹس جاری کیا اور 15 دن کے اندر ذاتی طور پر پیش ہوکر اپنی تعلیمی اسناد، اصل تقرری اور ترقی کے احکامات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ محکمہ کے مطابق اپنے جواب میں احمد نے اعتراف کیا کہ انہیں بعض افراد نے ایک مبینہ جعلی اور غیر قانونی عمل میں گمراہ کرکے پھنسایا تھا۔تحقیقات اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ڈائریکٹوریٹ نے قرار دیا کہ محکمہ تعلیم میں ان کی انٹری فراڈ پر مبنی اور قانون کی نظر میں غیر موجود تھی۔ اس کے بعد 2013 میں کی گئی مبینہ تقرری کو ابتدا ہی سے کالعدم قرار دے دیا گیا۔محکمہ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ مذکورہ تقرری کی بنیاد پر امتیاز احمد نے جو بھی سرکاری فوائد حاصل کیے ہیں، ان کی رقم ان سے واپس وصول کی جائے۔ اس معاملے نے محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کی جانچ اور تقرریوں کی تصدیق کے طریقہ کار پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں، کیونکہ مبینہ طور پر غیر موجود تقرری 2013 سے 2026 تک سرکاری ریکارڈ میں برقرار رہی اور 2018 میں اسی بنیاد پر انہیں استاد کے طور پر ترقی بھی دکھائی گئی۔ڈائریکٹوریٹ کے تازہ حکم میں کسی مخصوص افسر یا حکومت کو مبینہ جعلسازی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے اور کارروائی بنیادی طور پر امتیاز احمد کی مبینہ تقرری، ترقی اور سروس ریکارڈ سے متعلق تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کی گئی ہے۔