کرائم برانچ کشمیر نے ملزم کےخلاف چارج شیٹ عدالت میں دائر کردی
سرینگر / این این بی // لوگوں کو سرکاری ملازمتیں اور زمین دلانے کے جھوٹے وعدے کرکے ان سے رقم وصول کرنے کے الزام میں کرائم برانچ جموں کشمیر کی اقتصادی ونگ نے ملزم کےخلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کی ۔ نیشنل نیوز بیورو کے مطابق کرائم برانچ جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ نے ملازمت اور اراضی فراڈ سے متعلق دو الگ الگ مقدمات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ملزم عبدالمجید میر ولد عبد الرحیم میر ساکنہ کلاروس شاہ لال کپواڑہ کےخلاف سرینگر کی عدالت میں دو علیحدہ چارج شیٹ پیش کر دی ہیں۔تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے یہ چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔ تحقیقات کے دوران ملزم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے لوگوں کو سرکاری ملازمتیں اور زمین دلانے کے جھوٹے وعدے کرکے ان سے رقم وصول کی اور اپنے دعوو ¿ں کو قابلِ اعتبار بنانے کے لیے مبینہ طور پر جعلی سرکاری دستاویزات، تقرری احکامات اور اراضی الاٹمنٹ سے متعلق کاغذات کا استعمال کیا۔تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر مختلف افراد کو سرکاری ملازمت اور زمین فراہم کرنے کا لالچ دے کر اپنے جال میں پھنسایا اور ان سے بڑی رقوم حاصل کیں۔تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق پہلے مقدمے میں ایف آئی آر نمبر 13/2026درج کیا گیا تھا، جس میں بھارتیہ نیایا سنہتا کی دفعات318(4)تحت مقدمہ درج کیا گیا۔تحقیقات کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ایک شکایت کنندہ سے 2لاکھ 10ہزار روپے اس وعدے پر وصول کیے کہ وہ اسے سرکاری ملازمت دلوائے گا۔تحقیقاتی حکام کے مطابق ملزم نے اپنے دعوے کو درست ثابت کرنے کیلئے ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے نام سے ایک مبینہ جعلی تقرری حکم نامہ بھی فراہم کیا۔ اس دستاویز کے ذریعے متاثرہ شخص کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ ملازمت کا وعدہ حقیقی اور سرکاری سطح پر منظور شدہ ہے۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ای او ڈبلیو نے اس معاملے میں بھی متعلقہ عدالت کے سامنے چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔دوسرے معاملے میں ایف آئی آر نمبر 10/2025درج کیا گیا تھا، تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق اس مقدمے میں ملزم پر الزام ہے کہ اس نے خود کو لیفٹنٹ گورنر جموں و کشمیر کے ساتھ منسلک ڈیوٹی افسر ظاہر کیا اور اسی مبینہ جعلی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو سرکاری ملازمتیں اور زمین دلانے کا وعدہ کیا۔تحقیقات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے بمنہ میں ایس ڈی اے کالونی میں زمین الاٹ کرانے کے نام پر بھی متعدد افراد کو اپنے جھانسے میں لیا۔ اس مبینہ فراڈ کے ذریعے مختلف افراد سے مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ای او ڈبلیو کے مطابق متاثرین کو یقین دلانے کے لیے مبینہ طور پر جعلی تقرری احکامات اور زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق جعلی دستاویزات بھی فراہم کیے گئے۔ ان دستاویزات کا مقصد متاثرین کو یہ باور کرانا تھا کہ ملزم کے پاس سرکاری ملازمتیں اور زمین الاٹ کرانے کا اختیار یا رسائی موجود ہے۔تحقیقات کے دوران ای او ڈبلیو کشمیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ عبدالمجید میر کے خلاف وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں 15 الگ الگ فوجداری مقدمات درج ہیں۔تحقیقاتی ادارے کے مطابق مختلف مقدمات میں اس کی مبینہ شمولیت اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم ان مقدمات میں عائد الزامات کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتوں کی جانب سے قانونی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔










