30 ستمبر تک 1495حادثات ،202افراد جاں بحق: محکمہ ٹریفک
سرینگر / این این بی // وادی میں سال 2026 کے دوران سڑک حادثات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 30 ستمبر تک وادی میں سڑک حادثات کی تعداد میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 27.7فیصد کمی جبکہ سڑک حادثات میں ہونے والی اموات میں 35فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 30 ستمبر 2026 تک وادی کشمیر میں مجموعی طور پر 1495سڑک حادثات پیش آئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 2067حادثات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس طرح ایک سال کے دوران حادثات کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں مذکورہ مدت کے دوران 2067سڑک حادثات میں 312افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ 482افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے برعکس 2026 میں 30 ستمبر تک سڑک حادثات میں 202افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 35.26 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح رواں سال زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2026 میں اب تک مجموعی طور پر 328افراد زخمی ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 482 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یوں زخمیوں کی تعداد میں تقریباً 32فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے ستمبر 2026 تک وادی کشمیر میں مجموعی طور پر 3562سڑک حادثات پیش آئے، جن میں 514افراد جاں بحق اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ اگرچہ رواں سال حادثات اور اموات میں کمی حوصلہ افزا قرار دی جا رہی ہے، تاہم ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر احتیاط، رفتار پر قابو اور ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی اب بھی ناگزیر ہے۔ٹریفک پولیس کشمیر کے مطابق تیز رفتاری اب بھی جان لیوا سڑک حادثات کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانے سے نہ صرف حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ حادثے کی صورت میں جانی نقصان کے امکانات بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ٹریفک پولیس کے مطابق دیگر اہم وجوہات میں لاپرواہی اور تیز رفتاری سے گاڑی چلانا، اچانک خطرناک موڑ کاٹنا، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، خطرناک طریقے سے اوور ٹیکنگ، سڑکوں کی ناقص انجینئرنگ اور نشاندہی شدہ بلیک اسپاٹس شامل ہیں۔خاص طور پر پہاڑی علاقوں، تنگ سڑکوں، موڑوں اور خطرناک ڈھلوانوں پر غلط طریقے سے اوور ٹیکنگ کو حادثات کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر تیز موڑ، ناکافی سائن بورڈز، سڑکوں کے حفاظتی انتظامات کی کمی اور دیگر بنیادی خامیاں بھی حادثات کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔ٹریفک پولیس نے شراب یا دیگر نشہ آور اشیا کے زیر اثر ڈرائیونگ کو بھی خطرناک قرار دیا ہے، کیونکہ ایسی حالت میں ڈرائیور کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، ردعمل کا وقت اور گاڑی پر کنٹرول متاثر ہوتا ہے۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک کشمیر حسیب الرحمٰن نے بتایا کہ خاص طور پر شاہراہوں پر سڑک حادثات کی تعداد میں کمی لانے کیلئے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ رفتار کی حد سے متعلق سائن بورڈز نصب کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس کے بعد این ایچ اے آئی کی جانب سے قاضی گنڈ سے کشمیر کی مختلف شاہراہوں پر رفتار کی حد کے سائن بورڈز نصب کیے گئے ہیں۔ڈی آئی جی ٹریفک نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شاہراہوں اور دیگر سڑکوں پر نصب رفتار کی حد کے سائن بورڈز پر سختی سے عمل کریں اور گاڑی چلاتے وقت اپنی رفتار مقررہ حد کے اندر رکھیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ جو ڈرائیور رفتار کی حد یا دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ٹریفک حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ سڑکوں پر سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور ٹریفک قوانین کو محض جرمانے سے بچنے کے بجائے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھا جائے۔حکام کے مطابق حادثات میں کمی کے باوجود تیز رفتاری، خطرناک اوور ٹیکنگ، لاپرواہی سے ڈرائیونگ اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانے جیسے عوامل اب بھی سنگین خطرہ ہیں۔ ڈرائیوروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رفتار کی مقررہ حد کی پابندی کریں، خطرناک مقامات پر خاص احتیاط برتیں اور کسی بھی صورت میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔










