abdul rahim rather

معاشی طور پر کمزور طبقات کے سرٹیفکیٹس کے اجرا میں علاقائی عدم توازن

کسی بھی طبقے کےساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے، حکومت کو پہلوو ¿ں کی نشاندہی کرنی چاہیے / عبد الرحیم راتھر

سرینگر / این این بی // معاشی طور پر کمزور طبقات کے سرٹیفکیٹس کے اجرا میں مبینہ علاقائی عدم توازن کے معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو کی بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے واضح کیا کہ حکومت کو ان علاقوں یا پہلوو ¿ں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں نظام میں بہتری کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تاکہ تمام اہل افراد کو یکساں مواقع اور مقررہ سہولیات تک منصفانہ رسائی حاصل ہو سکے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق سوپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جموں کشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کے اجرا سے متعلق معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور جہاں بہتری کی گنجائش موجود ہو، وہاں ضروری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا”ہاں، میں نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ جہاں بہتری کی گنجائش ہے وہاں اس معاملے کا جائزہ لیا جائے، تاکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی سے بچا جا سکے۔“اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کے اجرا سے متعلق شکایات اور مبینہ علاقائی تفاوت کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے، تاکہ اس زمرے کے تحت دستیاب فوائد تک اہل افراد کی رسائی میں کسی قسم کی رکاوٹ یا امتیاز نہ رہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو ان علاقوں یا پہلوو ¿ں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں نظام میں بہتری کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تاکہ تمام اہل افراد کو یکساں مواقع اور مقررہ سہولیات تک منصفانہ رسائی حاصل ہو سکے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ خزاں اجلاس کے دوران ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کے اجرا میں مبینہ علاقائی عدم توازن کا معاملہ ایوان میں اٹھایا گیا تھا۔پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے اس معاملے پر کالنگ اٹینشن موشن پیش کرتے ہوئے ایوان کی توجہ مختلف علاقوں میں ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کے اجرا میں مبینہ تفاوت کی جانب مبذول کرائی تھی۔اس معاملے پر اسپیکر کے تازہ بیان کے بعد حکومت کی جانب سے ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کے اجرا کے طریقہ کار اور مختلف علاقوں میں اس کے اطلاق کا جائزہ لیے جانے کی توقع ہے۔اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی عمل میں موجود کسی بھی ممکنہ خامی یا عدم توازن کو دور کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی علاقے یا طبقے کے اہل افراد اپنے قانونی اور مقررہ فوائد سے محروم نہ رہیں۔