s jai shankar

یوکرین تنازعہ کے خاتمے کیلئے بھارت کا موقف واضح

بھارت۔روس تعلقات صرف اقتصادی اور تجارتی شعبوں تک محدود نہیں / جے شنکر

سرینگر / این این بی // یوکرین تنازعہ کے خاتمے کیلئے بھارت بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کا حامی ہے کی بات کرت ہوئے مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ بھارت۔روس تعلقات صرف اقتصادی اور تجارتی شعبوں تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی اور عوامی سطح کے روابط بھی دونوں ممالک کی شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھارت روس تعلقات پر مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یوکرین میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل کی بھارت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں کا جامع جائزہ لیا گیا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطہ کاری، ثقافت اور عوامی سطح کے تعلقات شامل ہیں۔اجلاس کے دوران بھارت اور روس کے درمیان کثیر جہتی تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑ ھتے ہوئے تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں جاری تعاون پر غور کیا گیا۔جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس ‘ایک پوسٹ میں کہا کہ بھارت۔روس تعلقات پر مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی گئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعاون کے مختلف پہلوو ¿ں پر روشنی ڈالی گئی۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطوں، ثقافت اور عوامی سطح کے روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے بھارت کی جانب سے بات چیت اور سفارت کاری کی فعال حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔بھارت نے ایک مرتبہ پھر یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اجلاس میں جے شنکر نے اس حوالے سے بھارت کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے بات چیت اور سفارتی کوششوں کی حمایت برقرار ہے۔بھارت مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ تازہ اجلاس میں بھی اسی موقف کو دہرایا گیا اور یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔اجلاس میں بھارت اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کو مزیدمتوازن اور وسیع بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں جانب سے تجارت کے دائرہ کار کو بڑھانے اور بھارتی مصنوعات کی روسی منڈیوں تک رسائی میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔اس سلسلے میں روس کو بھارتی برآمدات بڑھانے کے لیے سات اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت کی جانب سے ان شعبوں میں برآمدات بڑھانے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن کو بہتر بنانے اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ظاہر کی گئی۔مذاکرات میں اس بات پر غور کیا گیا کہ بھارت اور یوریشین خطے کے درمیان تجارتی مواقع کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے اور کاروباری و اقتصادی روابط کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ان منصوبوں کو بھارت اور روس کے درمیان تجارتی اور معاشی روابط کو مزید آسان بنانے کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ بہتر ٹرانسپورٹ رابطوں سے سامان کی نقل و حمل، تجارتی راستوں کی توسیع اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔اجلاس میں توانائی کے شعبے میں بھارت۔روس تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔ توانائی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کا ایک اہم شعبہ ہے اور اجلاس میں اس میدان میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات پر بات ہوئی۔