670 نیم فوجی کمپنیوں کی تعیناتی، یاترا روٹوں اور حساس مقامات پر نگرانی مزید سخت،کثیر ایجنسی رابطہ کاری پر خصوصی توجہ
سرینگر// یو این ایس// سالانہ امرناتھ یاترا 2026 کے آغاز میں محض دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران مرکزی حکومت نے یاترا کے محفوظ اور پْرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں مرکزی وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ ترین حکام، نیم فوجی دستوں کے سربراہان اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک بااختیار وفد 20 اور 21 جون کو جموں و کشمیر کا دو روزہ دورہ کرے گا، جہاں یاترا کے لیے کی گئی سکیورٹی، انتظامی اور بنیادی سہولیات کی تیاریوں کا موقع پر جائزہ لیا جائے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق مرکزی وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری گووند موہن کی سربراہی میں آنے والے وفد میں سی آر پی ایف، بی ایس ایف، ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی اور دیگر مرکزی نیم فوجی فورسز کے ڈائریکٹر جنرلز کے علاوہ انٹیلی جنس بیورو اور وزارتِ داخلہ کے سینئر افسران شامل ہوں گے۔ وفد جموں اور کشمیر ڈویژن میں الگ الگ جائزہ اجلاس منعقد کرے گا اور مختلف محکموں کے سربراہان سے تفصیلی بریفنگ حاصل کرے گا۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کے مطابق 20 جون کو جموں میں جبکہ 21 جون کو کشمیر میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوں گے۔ ان اجلاسوں میں جموں و کشمیر پولیس، سول انتظامیہ، صحت، ٹرانسپورٹ، بجلی، جل شکتی، محکمہ تعمیرات عامہ، شری امرناتھ جی شرائن بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شرکت کریں گے۔ اجلاسوں میں یاترا کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خامی کو بروقت دور کیا جا سکے۔رائع کا کہنا ہے کہ امسال یاترا کے دوران سکیورٹی کو غیر معمولی سطح پر مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ مرکزی وزارتِ داخلہ پہلے ہی یاترا کی حفاظت کے لیے 670 نیم فوجی کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دے چکی ہے، جن میں سے تقریباً 90 فیصد فورسز اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہیں جبکہ باقی اہلکار بھی آئندہ چند روز میں تعینات کر دیے جائیں گے۔حکام کے مطابق وادی کشمیر میں یاترا کے دونوں روٹس، یعنی روایتی ننون-پہلگام راستہ اور بالتل روٹ، کو کثیر سطحی حفاظتی حصار میں لایا جا رہا ہے۔ حساس مقامات پر اضافی نفری، جدید نگرانی کے آلات، ڈرون سرویلنس، سی سی ٹی وی نگرانی اور انٹیلی جنس نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ دورہ 12 جون کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے تسلسل میں ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، فوجی سربراہ جنرل اوپیندر دویدی، وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری گووند موہن، چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات اور مختلف مرکزی سکیورٹی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے تھے۔جلاس میں یاترا کے لیے سکیورٹی بندوبست، انٹیلی جنس رابطہ کاری، انسدادِ دہشت گردی اقدامات، طبی سہولیات، مواصلاتی نظام اور یاتریوں کی سہولت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔ آئندہ دورے کے دوران انہی فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔حکام کے مطابق اس سال یاترا کے دوران یاتریوں کے قافلوں کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ جموں میں لکھن پور سے لے کر جموں، ادھم پور، رام بن، بانہال اور قاضی گنڈ تک قومی شاہراہ پر سخت حفاظتی انتظامات ہوں گے۔ یاتریوں کے قافلے مرحلہ وار سکیورٹی حصار میں روانہ کیے جائیں گے جبکہ شاہراہ پر حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔جموں ریلوے اسٹیشن، ہوائی اڈے، بس اڈے، بھگوتی نگر یاتری نواس اور دیگر رہائشی مراکز کو بھی خصوصی سکیورٹی کور فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح کشمیر میں بالتل اور ننون بیس کیمپوں کے علاوہ یاتریوں کی رہائش، قیام اور نقل و حرکت کے تمام مقامات پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ کا وفد صرف سکیورٹی ہی نہیں بلکہ یاترا کے دوران فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا بھی جائزہ لے گا۔ اس میں طبی امداد، ایمبولینس خدمات، ہنگامی طبی مراکز، ٹرانسپورٹ، پینے کے پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، بجلی، مواصلاتی نظام اور لنگر انتظامات شامل ہیں۔تعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یاترا کے آغاز سے قبل تمام تیاریوں کو حتمی شکل دیں تاکہ لاکھوں عقیدت مندوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سال امرناتھ یاترا کے لیے رجسٹریشن کا عمل حوصلہ افزا رہا ہے اور ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافے اور بہتر سفری سہولیات کے باعث حکام کو امید ہے کہ امسال یاترا میں شرکت کرنے والوں کی تعداد نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔اسی تناظر میں انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ یاترا کے دوران فوج، جموں و کشمیر پولیس، مرکزی نیم فوجی دستوں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سول انتظامیہ کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ مشترکہ کنٹرول رومز، فوری ردعمل ٹیمیں اور جدید مواصلاتی نظام فعال کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ امرناتھ یاترا نہ صرف ایک اہم مذہبی تقریب ہے بلکہ جموں و کشمیر کی سیاحت اور معیشت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، اسی لیے اس کے پْرامن اور کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔










