ہماچل پردیش میں تازہ برف باری سیاحت کے کاروبار کے لئے فعال نیک ثابت ہوئی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے سیاحتی گاڑیوں پر عائد دوہرے ٹیکس کے بعد گزشتہ دو مہینوں میں ریاست کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی کم تعداد آرہی ہے۔ روہتانگ پاس، لاہول اسپتی، چنشال اور دیگر سیاحتی مقامات پر اچھی برف باری کے بعد سیاحوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ دوہرے ٹیکس کی وجہ سے درگا پوجا کا سیاحتی سیزن بری طرح متاثر ہونے کے بعد، دیوالی کی تعطیلات کے دوران سیاحوں کی ایک قلیل تعداد نے ہی ہماچل کا دورہ کیا۔
اگرچہ حکومت نے اب دوہرے ٹیکس کو 3000 روپے یومیہ سے کم کر کے 500 روپے یومیہ کر دیا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے دیئے گئیے اس ریلیف کی اطلاع بیرونی ریاستوں کے سیاحوں اور ٹریول ایجنٹس تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ ہر سال موسم سرما کے سیاحتی موسم میں برف باری کے بعد ہماچل میں سیاحوں کی آمد ہوتی ہے۔ ملک بھر سے سیاح کلو-منالی، شملہ-نارکنڈہ، لاہول-اسپتی برف باری سے لطف اندوز ہونے جاتے ہیں۔
اگر کرسمس اور نئے سال پر ہماچل میں برف باری ہوتی ہے تو ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ پنجاب، ہریانہ، دہلی، اتر پردیش اور دیگر ملحقہ ریاستوں سے سیاح کرسمس اور نئے سال کا جشن منانے کے لیے ہماچل کے سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ جب برف باری ہوتی ہے تو ان کی تعداد دوگنی ہوجاتی ہے۔فیڈریشن آف ہوٹل اینڈ ریسٹورانٹس ایسوسی ایشن آف ہماچل کے صدر گجیندر سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ بنگال اور گجرات سے سیاحوں کی بہت کم تعداد درگا پوجا اور دیوالی پر ہماچل پہنچتی ہے۔ تازہ ترین برفباری کے بعد سیاحوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ اگر کرسمس اور نئے سال پر برف باری ہوتی ہے تو ریاست میں سیاحت کے کاروبار میں تیزی آئے گی۔










