ہند،جرمنی دفاعی شراکت داری کو فروغ، جدید ٹیکنالوجی میں مشترکہ ترقی کی پیشکش

ہند،جرمنی دفاعی شراکت داری کو فروغ، جدید ٹیکنالوجی میں مشترکہ ترقی کی پیشکش

عالمی غیر یقینی صورتحال میں قابل اعتماد شراکت داروں کی ضرورت ناگزیر// وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ

سرینگر// یو این ایس//بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جرمن صنعت کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کے میدان میں ہندوستان کے ساتھ مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے لیے مدعو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں قابل اعتماد شراکت داری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔وہ جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ ڈیفنس انویسٹر سمٹ سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور تیز رفتار تکنیکی پیش رفت کے تناظر میں عالمی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا بھر میں قومیں اور صنعتیں اپنے انحصار کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہیں اور ایسی شراکت داریوں کی تلاش میں ہیں جو لچک، تسلسل اور باہمی اعتماد کو یقینی بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک وسیع اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ، نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت، اور مستحکم صنعتی ماحولیاتی نظام پیش کرتا ہے، جو سرمایہ کاری کے لیے نہایت موزوں ہے۔یو این ایس کے مطابقراج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’ہندوستان میں استحکام، پیش گوئی اور قانون کی حکمرانی موجود ہے، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی ستون ہیں۔ یہ کوئی عارضی موقع نہیں بلکہ ایک مستقل اسٹریٹجک پیشکش ہے۔انہوں نے ’’آتم نربھر بھارت‘‘ اور ’’ری آرم یورپ‘‘ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی کمپنیاں جرمن صنعت کے ساتھ مل کر جدید ریڈار، سینسر ٹیکنالوجی، ملٹی سینسر سسٹمز، مصنوعی ذہانت پر مبنی بغیر پائلٹ فضائی نظام، سونو بوئس اور زیر آب ٹرانسمیٹرز جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔وزیر دفاع نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہندوستان کے ویژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ہدف کے پیچھے واضح پالیسی سمت اور 1.4 ارب عوام کی اجتماعی خواہشات کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی میکرو اکنامک بنیادیں مضبوط ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی خود کفالت کا تصور کسی تنہائی پر مبنی نہیں بلکہ شراکت داری پر مبنی ہے۔ ’’ہم خود انحصاری کو ایک ایسے ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں ہم اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ مل کر ڈیزائن، ترقی اور پیداوار کے عمل میں شریک ہوں۔ ہندوستان اب صرف خریدار نہیں بلکہ ایک فعال شراکت دار بن رہا ہے۔‘‘وزیر دفاع نے دفاعی شعبے کو ملک کی صنعتی اور تکنیکی حکمت عملی کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام نہ صرف قومی سلامتی بلکہ اقتصادی استحکام اور عالمی مسابقت کو بھی تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اسٹارٹ اپس کو فروغ ملتا ہے، جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی ہوتی ہے اور سپلائی چین مضبوط ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے گزشتہ دہائی کے دوران کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے کئی اصلاحات نافذ کی ہیں، جن میں شفاف پالیسیاں، سرمایہ کار دوست ماحول، مضبوط ریگولیٹری نظام اور بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شامل ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی شعبے میں ہندوستان ایک بڑی مارکیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ لاگت سے مؤثر مینوفیکچرنگ، ہنر مند افرادی قوت اور وسیع سپلائر نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلورو، حیدرآباد اور پونے جیسے شہروں میں ابھرتا ہوا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام نئی اختراعات کے لیے زرخیز زمین فراہم کر رہا ہے، جبکہ ’اسٹارٹ اپ انڈیا‘، ’ڈیجیٹل انڈیا‘اور’اسکل انڈیا‘ جیسے اقدامات اس عمل کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چین میں ہندوستان کے ساتھ شراکت داری خطرات کو کم کرنے اور لچک پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔وزیر دفاع نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان دفاعی تعلقات میں بڑھتی ہوئی قربت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ ترقی اور پیداوار کے ذریعے دفاعی تعاون کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری باہمی فائدے، مشترکہ ترقی اور طویل مدتی استحکام کی بنیاد پر قائم ہے۔اپنے دورہ جرمنی کے دوران راج ناتھ سنگھ نے کیئل میں ٹی کے ایم ایس سب میرین تعمیراتی مرکز کا دورہ بھی کیا، جہاں جدید بحری ٹیکنالوجیز اور دفاعی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس سے قبل انہوں نے برلن میں اپنے جرمن ہم منصب بورس پسٹوریس کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی، جس میں دفاعی صنعتی تعاون کے روڈ میپ اور اقوام متحدہ کی امن مشنز کے لیے تربیتی تعاون سے متعلق معاہدوں پر دستخط اور تبادلہ کیا گیا۔وزیر دفاع نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہندوستان جرمنی کے ساتھ ایک مضبوط، پائیدار اور مستقبل پر مبنی شراکت داری کا خواہاں ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ عالمی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔