سرینگر //نئی دلی والے جموں وکشمیر میں ایک نئے جمہوری نظام قائم کرنے کے جو دعوے کررہی ہے وہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اس سے پہلے جموں وکشمیر میں ایسا جمہوری نظام بالکل بھی نہیں تھا جس میں عوامی نمائندوں کو الیکشن لڑنے کے بعد ہوٹلوں ، سکولوں اور ہوسٹلوں میں قید کرکے رکھا جاتا تھا اور اُن کی تمام سرگرمیاں محدود کی جاتی تھیں۔ سی این آئی کے مطابق اننت ناگ کے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے یک روزہ کنونشن سے خطاب نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت یہاں الیکشن کرانے کے ایسے بلند بانگ دعوے کررہی ہے جیسے کہ جموں و کشمیر میں کبھی پنچایتی الیکشن ہوئے ہی نہیں تھے،ہم نے اپنے دورِ حکومت میں پنچایتی الیکشن کرائے جب ساگر صاحب دیہی ترقی کے وزیر تھے، لیکن ہم نے اس کے بعد پنچوں اور سرپنچوں کو قید کرکے نہیں رکھا بلکہ وہ کھلے عام فیلڈ میں رہ کر لوگوں کے کام کرتے تھے۔کنونشن کے مقام کی دیوار کی دوسری طرف اشارے دکھاتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس دیوار کے پیچھے کالج اور کالج کا ہوسٹل ہے لیکن وہاں بچے نہیں بلکہ بیچارے پنچ، سرپنچ، کونسلر اور ڈی ڈی سی ممبران قید ہیں اور ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، ان سے کہا گیا ہے کہ ’باہر مت نکلو، باہر بہت خطرہ ہے‘۔ یہ لوگ مجھے فون کرتے ہیں اور اس قید و بند سے نجات چاہتے ہیں، یہ لوگ حکمرانوں کو تحریری طور پر لکھ کر دیتے ہیں کہ اُنہیں یہاں سے نکلنے کی اجازت دی جائے وہ ٹنل پار کرکے جموں میں قیام پذیر ہوجائیں گے لیکن انہیں جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ یہاں بھی حکمرانوں نے دوغلی پالیسی اور ناانصافی اپنا رکھی ہے، جو نمائندے بی جے پی اور اُس کی پراسکی جماعتوں کے تعلق رکھتے ہیں انہیں حکومت نے گاڑیوں میں بھٹا کر ٹنل کے اُس پار لے لیا لیکن جو آزاد اُمیدوار تھے انہیں کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں۔عمرعبداللہ نے سوال کیا کہ اگر ان عوامی نمائندوں کو قید ہی رکھنا تھا تو الیکشن کیوں کرایا گیا؟ دنیا کو دھوکہ دینے کیلئے ان کی جان کو خطرے میں کیوں ڈالا گیا اور ان کا مذاق کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے یہاں بالکل ایک نیا جمہوری نظام قائم کیا ہے اور یہ بدترین جمہوری نظام نئی دلی کو بہت بہت مبارک ہو۔این سی نائب صدر نے کہا کہ ہمیں جموں وکشمیر اور جموں وکشمیر کے لوگوں کو اس افسرشاہی سے بچانا ہے، جہاں سچ بولنے کی سزا جیل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب حکمران اخباردیکھ کر کانپتے تھے، آج اخباروں حال دیکھئے صرف سرکاری پریس نوٹ ، مشکل سے کہیں کوئی خبر دکھتی ہے، اس میں ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں، یہ سچ لکھتے ہیں تو سچ کی سزا جیل ہے، ان کو دفتروں سے نکالا جاتا ہے، ان کے اشتہار بند کردیئے جاتے ہیں، انہیں تھانوں میں حاضری دینے کیلئے کہا جاتا ہے اور بالآخر یہ بیچارے سچ نہ لکھنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پوری دنیا کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر کے حالات بہت خراب ہے اور حالات کو درست کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ دفعہ370کو ہٹانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جموں وکشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا۔ دنیا کو یہ بھی بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں تعمیر و ترقی نہیں، یہاں غربت ہے، یہاں بے روزگاری ہے، یہاں کورپشن ہے، یہاں آتنگ واد ہے اور یہاں علیحدگی پسند سوچ ہے، یہاں تمام خرابیاں ہیں اور تمام بیماریوں کا ایک ہی علاج دفعہ370کو ہٹانا ہے۔ لیکن 5اگست2019کے اڑھائی سال گزر جانے کے بعد بھی ایک بھی بیماری کا علاج نہیں ہوا، الُٹا خرابیاں اور زیادہ بڑھ گئیں۔ حکمران ایک چیز کی طرف اشارہ کرکے دکھائے کہ یہاں بہتری آئی ہے اور لوگوں کی زندگی میں بہتری آئی ہے۔ کشمیر کی بات چھوڑیئے ٹنل کے اُس پاس کہیں بہتری دکھائے۔ جن جموں والوں کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ دفعہ370کی وجہ سے اُن کی زندگیاں تباہ ہورہی ہے اور جن جموں والوں نے 5اگست2019کو پٹاخے سرکے اور جشن منایا، آج وہ مایوسی اور نااُمید ہیں، وہ بھی یہ پوچھنے کیلئے مجبور ہوتے ہیں کہ 5اگست2019کے بعد اُن کو کیا فائدہ پہنچا۔جموں وکشمیر کے لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ دفعہ370بے روزگاری کی جڑ ہے اور جونہی دفعہ370گیا گھر گھر روزگار پہنچے گا لیکن اڑھائی سال گزر جانے کے بعد روزگار دینا تو دور کی بات اُلٹا آئے روز مختلف بہانے بناکر ملازموں کو نکالا جارہاہے۔ ہم سے کہا گیا تھا کہ سرمایہ کار آئیں گے، فکٹریاں لگیں گے، بڑے ہوٹل بنیں گے، کون سا سرمایہ کار آیا؟ کس نے یہاں فکٹری لگائی؟ ہم سے کہا گہا تھا کہ دفعہ370کے بعد تعمیر و ترقی ہوگی، ایک پروجیکٹ دکھائے جو 5اگست2019کے بعد بنا ہو۔جہلم ، سندھ یا چناب پر کوئی نیا پاور پاور پروجیکٹ دکھائے؟ کوئی نئی یونیورسٹی ، کالج یا سکول دکھائے؟ کوئی نیا انجینئرنگ یا میڈیکل کالج دکھائے؟ ارے جناب کوئی نیا سرکاری دفتر ہی دکھائے؟ہائے وے سے لیکر ناشری ٹنل تک اور ریلوے سے لیکر بانہال ٹنل تک جن پروجیکٹوں کی لوگ تشہیر کرتے ہیں یہ سب سابق حکومتوں کی دین ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم سے کہا گیا تھا کہ بندوق خاموش ہوجائیگا ، ہمیں دکھائے کہ کہاں خاموش ہوا؟ آج تو وہاں بھی بندوقیں چلتی ہیں جہاں بندوق کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہم نے بنکر ہٹائے اور افسپا ہٹانے کی مانگ کررہے تھے ۔ آپ نے نہ صرف پھر سے بنکر بنائے بلکہ شاہراہوئوں پر بھی بنکر بنا ڈالے اور UAPAاور کئی دیگر کالے قوانین لائے۔لوگوں کو تکلیف میں ڈالنے کیلئے NIAکافی نہیں تھا کہ اب کوئی SIAبھی شروع ہوگیا ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ جب ہم سوال کرتے ہیں کہ کہاں بہتری آئی تو ہم سے کہا جاتا ہے کہ ٹورسٹ آرہے ہیں، کیا 5اگست2019سے پہلے یہاں ٹورسٹ نہیں آتے تھے، کیا پہلگام کے ہوٹل 5اگست2019سے پہلے خالی ہوا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آج جموں وکشمیر کے ہر ایک باشندے کا دل دکھ ہے اور اگر آپ نے ہمارے آئین کو تہس نہس نہیں کیا ہوتا تو شائد ہم سب ہسی خوشی رہ ررہے ہوتے۔ آج لوگوں خوفزہ ہیں، جنگلوں اور پہاڑیوں پر جو لوگ اپنے مال مویسی چرانے جاتے تھے وہاں تار بندی کی جارہی ہے، جن لوگوں نے سالہاسال سے زیر استعمال زمینیں روشنی کے تحت حاصل کی اُن کو بے دخل کیا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں اتنا درد اور افسوس ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ ناانصافی کی حد دیکھئے، 5اگست2019کو جموں وکشمیر کے دو ٹکڑے کئے گئے لداخ اور جموں وکشمیر لیکن لداخ میں وہی قوانین برقرار جو دفعہ370کے تحت تھے، وہاں کے نوکریاں، سکالرشپ، ووٹ ڈالنے کا قانون، زمینیں خریدنے کا قانون وہی جو 5اگست2019سے پہلے تھا لیکن ہمارے لئے دوسرا پیمانہ۔ جموں وکشمیر میں باہر کے لوگ نوکری بھی حاصل کرسکتے ہیں، سکالرشپ بھی لے سکتے ہیں، زمین بھی خرید سکتے ہیں، ٹھیکے بھی لے سکتے ہیں، ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔ اس ناانصافی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ لڑائی کسی کے گھر کی لڑائی نہیں، یہ کسی ایک تنظیم کی لڑائی نہیں، یہ ہماری شناخت کی لڑائی ہے، یہ ہماری پہچان کی لڑائی ہے ، یہ ہماری عزت اور وقار کی لڑائی ہے۔اس کیلئے ہمیں اپنی صفوں کو مضبوط کرنا ہے۔کنونشن میں سینئر پارٹی لیڈران تنویر صادق، پیر محمد حسین، سید توقیر احمد، سلمان علی ساگر، ترجمان عمران نبی ڈار، احسان پردیسی، ایڈوکیٹ ریاض احمد خان اور دیگر لیڈران اور عہدیداران بھی کنونشن میں موجود تھے۔










