گجرات میں 64برس بعد کانگریس کا قومی اجلاس، پہلے دن سی ڈبلیو سی کی میٹنگ

گجرات میں 64برس بعد کانگریس کا قومی اجلاس، پہلے دن سی ڈبلیو سی کی میٹنگ

کانگریس کا 84واں قومی اجلاس 64سال بعد ریاست گجرات میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ دو روزہ اجلاس کل اور آج احمدآباد میں منعقد ہوا، جس کی شروعات کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی اہم میٹنگ سے ہوگی۔ یہ میٹنگ احمدآباد میں واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل قومی یادگار میں منعقد ہوگی جس میں سی ڈبلیو سی کے ممبران، کانگریس کے زیر اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، مختلف ریاستوں کے انچارج، پردیش صدور، قائدینِ حزب اختلاف اور دیگر سینئر لیڈران شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس کئی اعتبار سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ گجرات میں اس سے قبل 1961 میں بھاونگر میں پارٹی کا اجلاس ہوا تھا، جو آزادی کے بعد ریاست میں پہلا اجلاس تھا۔ اس بار اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ مہاتما گاندھی کے بطور کانگریس صدر 100سال مکمل ہو رہے ہیں۔
اور ساتھ ہی ساتھ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔ دونوں عظیم رہنما گجرات میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے پارٹی نے اس موقع پر گجرات کو اجلاس کا مقام چنا۔
اجلاس کا مرکزی حصہ 9 اپریل کو ہوگا، جس میں ملک بھر سے 1700 سے زائد کانگریس کمیٹی کے نمائندے شریک ہوں گے۔ یہ اجلاس احمدآباد کے سبز و شفاف مقام، سابرمتی ریور فرنٹ پر منعقد ہوگا، جہاں ایک خصوصی وی وی آئی پی ڈوم تیار کیا گیا ہے۔ اجلاس کا تھیم ہے، نیائے پتھ: سنکلپ، سمرپن اور سنگھرش۔‘
اس اجلاس میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت موجود ہوگی، جن میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا شامل ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کانگریس کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بہتر کارکردگی کے باوجود مہاراشٹر، دہلی اور ہریانہ کی اسمبلیوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پارٹی اب اپنی توجہ بہار اسمبلی انتخابات پر مرکوز کر رہی ہے، جہاں وہ اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے کی امید رکھتی ہے۔
آنے والا سال کانگریس کے لیے سیاسی طور پر کافی اہم ہے کیونکہ کیرالہ اور آسام میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، جہاں وہ حکومت سازی کی پوزیشن میں ہے۔ وہ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد میں میدان میں اترے گی، جبکہ مغربی بنگال میں ابھی تک اتحاد پر کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔کانگریس کا یہ اجلاس تنظیمی طاقت کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ آنے والے انتخابات کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔