نہریں خشک، کھیت بنجر ہونے لگے، کسانوں کو بھاری نقصان کا اندیشہ
سرینگر//ضلع گاندربل کے مختلف علاقوں میں آبپاشی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث کسانوں میں دھان کی فصل کے مستقبل کو لے کر تشویش بڑھ گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اہم زرعی سیزن کے دوران نہروں میں پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے، جس سے وسیع زرعی اراضی متاثر ہو رہی ہے اور دھان کے کھیت سوکھنے لگے ہیں۔توالہ مولہ ، واکورہ، شیرپتھری، بٹوینہ اور دیگر کئی دیہات کے کسانوں نے بتایا کہ آبپاشی کے پانی کی شدید قلت کے باعث فصلوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید چند ہفتوں تک برقرار رہی تو انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تلہ مولہ کے ایک کسان عبدالرشید نے کہا کہ فصلیں پانی کی کمی سے متاثر ہو رہی ہیں اور موجودہ حالات برقرار رہے تو کسانوں کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نہروں میں پانی کا بہاؤ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں نہریں تقریباً خشک ہو چکی ہیں یا ان میں موجود پانی زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔کاشتکاروں نے الزام عائد کیا کہ متعدد آبپاشی نہریں گاد سے بھری ہوئی ہیں اور طویل عرصے سے ان کی صفائی نہیں کی گئی، جس سے مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ واکورہ کے ایک کسان نے کہا کہ کھیتوں تک پانی پہنچانے والی نہریں بھی تقریباً خشک ہو چکی ہیں اور بارہا شکایات کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔بارش پر انحصار کرنے والے علاقوں میں صورتحال مزید تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مسلسل خشک موسم کے باعث زمین میں نمی کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے اور کئی کھیتوں میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں، جو نئی منتقل کی گئی دھان کی فصل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔یو این ایس کے مطابق شیرپتھری کے ایک کسان نے کہا کہ بارش نہ ہونے کے باعث دھان کی فصل متاثر ہو رہی ہے، کھیت سوکھ رہے ہیں اور زمین میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جون کے اختتام تک خاطر خواہ بارش نہ ہوئی تو ضلع کو خشک سالی جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے سینکڑوں کسان خاندانوں میں پیداوار کم ہونے اور مالی نقصان کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ گاندربل میں زراعت معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم ذریعہ ہے اور دھان کی کاشت کے اس نازک مرحلے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ دیہی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔سماجی و سیاسی کارکن قیصر سلطان نے کہا کہ شیرپتھری بلاک کے وسیع زرعی علاقے شدید آبی بحران سے دوچار ہیں اور کسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے محکمہ آبپاشی سے مطالبہ کیا کہ نہروں کی فوری صفائی، بحالی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ کھڑی فصلوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کرے اور ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی تیار کرے۔ ادھر کسانوں نے بھی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی سے اپیل کی ہے کہ نہروں کی فوری ڈی سلٹنگ، بہتر آبی انتظام اور دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایک بڑے زرعی بحران سے بچا جا سکے۔










