کولگام میں خاتون کی لاش مشکوک حالت میں برآمد

ادھم پور میں لاپتہ شہری کی لاش برآمد ،مقامی لوگوں کا احتجاج

سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک35سالہ خاتون کی لاش یہاں گھر سے چند گز کی دوری پر برآمد کر لی گئی ہے جبکہ پولیس نے اس سلسلے میںایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کیا ہے ۔ادھر جموں کے ادھم پور میں پولیس نے ایک شہری کی لاش بر آمد کر لی ہے جس کے خلاف لوگوں نے احتجاج کر کے اسے قتل قرار دیا ہے پولیس نے اس حوالے سے کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کے مطابق جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں ایک خاتون (شناخت ظاہر نہیں کی گئی) کی لاش پیر کی صبح یاریکھن کولگام میں اپنے گھر سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر اخروٹ کے ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔سرکاری زرائع نے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لیا اور قانونی لوازمات کے بعد اسے ورثے کے سپرد کیا۔اْنہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پولیس اس واقعے کو ہر زاویہ سے تحقیقات کر رہی ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ ضلع میں گزشتہ 24گھنٹوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔قبل ازیں اتوار کو کولگام ٹاچھلو علاقے میں ایک 50 سالہ شخص کو بھی مشکوک حالت میں درخت سے لٹکتا ہوا پایا گیا تھا۔ادھر جموں کے ادھم پور علاقے میں ایک 50سالہ شہری کی لاش کو پولیس نے برآمد کر لیا ہے تاہم لوگوں کا الزام میں ہے کہ شہری کو قتل کیا گیا ہے ۔مقامی لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور الزام لگایا کہ راکیش کھجوریہ کا قتل کیا گیا ہے۔نامہ نگار کے مطابق اْدھم پور میں اْس وقت سراسیمگی پھیل گئی جب یہاں ایک ہفتے قبل لاپتہ ہوئے راکیش کھجوریہ کی لاش برآمد کی گئی۔مقامی لوگوں اور لواحقین نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور الزام لگایا کہ راکیش جی کا سنسنی خیز طریقے سے قتل کیا گیا ہے۔متوفی کی اہلیہ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ یکم اگست کو بیوپار منڈل کے چناو مکمل ہونے کے بعد راکیش کھجوریہ اچانک لاپتہ ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ بسیار تلاش کے باوجود بھی جب اْن کا کئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکا تو پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی۔اْن کے مطابق معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔