لیہہ شہر میں منفی 11.2، کرگل میں منفی 9.2 اور دراس میں منفی 11.5 درجہ حرارت درج
سرینگر // دن میں کھلی دھوپ نکلنے اور رات کے اوقات آسمان صاف رہنے کے باعث وادی کشمیر میں کڑاکے کی ٹھنڈ کے نتیجے میں لوگوںکو سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اسی دوران ایک بار پھر رات کا درجہ حرارت نقطہ منجمند سے کافی نیچے رہا اور گزشتہ رات سرینگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی 4ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہرہ آفاق گلمرگ مسلسل وادی کی سرد ترین جگہ بنی ہوئی ہے ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے شبانہ درجہ حرارت میں مزید کمی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے آئندہ 24گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کی پیشگوئی کی ہے ۔سٹار نیوز نیٹ ورک ( ایس این این ) کے مطابق چلہ کلان کے سخت تیور کے بیچ جموں کشمیر اور لداخ میںشدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ اسی دوران ادی کشمیر میں جمعہ کو بھی شدید سردی سے کوئی راحت نہیں ملی اور اطراف و اکناف سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شدید سردی کے نتیجے میں اہلیان وادی کو کافی پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر سرینگر میں گذشتہ رات کے دوران کم سے کم درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سرینگر میں منفی 4، گلمرگ میں منفی 3.2 اور پہلگام میں منفی 5.3 درجہ حرارت کم سے کم رہا۔محکمہ موسمیات کے مطابق لیہہ شہر میں منفی 11.2، کرگل میں منفی 9.2 اور دراس میں منفی 11.5 درجہ حرارت کم سے کم تھا۔انہوں نے کہا کہ جموں شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 3.7، کٹرہ 6.2، بٹوٹ 4.5، بھدرواہ 1.3 اور بانہال میں منفی 0.4 تھا۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں جمعہ کو کم سے کم درجہ حرارت 3.7 ڈگری سیلشس رہا۔ جموں میں جمعہ کے روز سیزن کا سب سے کم کم سے کم درجہ حرارت 3.7 ریکارڈ کیا گیا جبکہ جمعرات کو اس نے سب سے کم زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 8.8 ریکارڈ کیا۔ادھر زمستانی موحول کی وجہ سے ڈل جھیل سمیت سبھی آبی ذخائر منجمد ہیں اور نل بھی جم گئے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ شدید ٹھنڈ کے چلتے وادی بھر میں رات کے دوران شدید سردی کی وجہ سے نل اور پانی کے ذخائر منجمد ہوگئے ہیں یہاں تک کہ ڈل جھیل کا بڑا حصہ بھی جم گیا ۔ سرد ہوائوں نے ہر چیز کو منجمد کرکے رکھ دیا ہے۔سردی کی شدید لہر کے بعد اونی لباس اور گرم ملبوسات کی طلب بڑھ گئی ہے۔ شدید ترین سردی کی وجہ سے مارکیٹوں اور بازاروں میں شہری آگ جلا کر سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ سردی بڑھتے ہی گیس اور لکڑی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ لداخ اور لہیہ میں شدید سردی اور ناکافی سہولیات نے شہریوں کے معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں موسم میں تبدیلی آنے کے امکانات نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں موسم خوشک رہنے کا امکان ہے ۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔










