Dr Jitendra inaugurates Himalayan High Altitude Atmospheric, Climate Research Centre at Mandlote, Chenani

ڈاکٹر جتندر سنگھ نے منڈلوٹ چنانی میں ہمالیائی ہائی الٹی ٹیو ڈایٹموسفیرک اینڈ کلائمیٹ ریسرچ سینٹر کا اِفتتاح کیا

اودھمپور// مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارتھ سائنس، وزیر اعظم کے آفس میں وزیر مملکت برائے عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے محکمے ڈاکٹر جتندر سنگھ نے آج اودھمپور ضلع کے گاؤں منڈلوٹ چنانی میں ہمالیائی ہائی الٹی ٹیوڈ ایٹموسفیرک اینڈ کلائمیٹ ریسرچ سینٹر کا اِفتتاح کیا اور اودھمپور ضلع میں چنانی کے گائوں مینڈلوٹے میں آئی سی ای۔کرنچ کے عنوان سے اِنڈو۔سوئس جوائنٹ ریسرچ پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دکھائی۔یہ اِنڈیو۔سوئس پروجیکٹ ایتھ زیورچ سوئیزرلینڈ کے اِشتراک سے شمال مغربی ہمالیہ میں آئیس نیوکلیٹنگ پارٹیکلزاینڈ کلائوڈ کنڈین سیشن نیوکلئی خصوصیات کا مطالعہ کرنے پر مرکوز ہے۔ اِس تقریب میں وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و اَمورصارفین، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی ستیش شرما،چیئرپرسن ڈی ڈی سی اودھمپور لال چند، ممبر قانون ساز اسمبلی چنانی بلونت سنگھ منکوٹیہ،مرکزی سیکرٹری اَرتھ سائنسز ڈاکٹر ایم روی چندرن، وائس چانسلرسینٹرل یونیورسٹی جموں پروفیسر سنجیو جین،ضلع ترقیاتی کمشنر اودھمپور سلونی رائے،ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن بصیر الحق چودھری، سینٹراِنچارج ڈاکٹر شویتا یادو، رجسٹرارسینٹرل یونیورسٹی جموں پروفیسر یشونت سنگھ اور دیگر سینئر اَفسران، پی آر آئی ممبران اور مقامی عوام نے شرکت کی۔ڈاکٹر جتندر سنگھ اپنے خطاب میں لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس تحقیقاتی مرکز کے قیام پر فخر کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مرکز موسمیاتی پیٹرن جیسے بارش اور بادل پھٹنے کی پیشگوئی کے جدید تحقیق پر کام کرے گا جو کہ ہمالیہ کے خطے کے لئے اِنتہائی اہم ہے۔اُنہوں نے ہندوستان کی سائنسی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 2014 سے قبل ہندوستان کو کمزور معیشت سمجھا جاتا تھا لیکن آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان دُنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے۔اُنہوں نے 2047 تک ’’وِکست بھارت‘‘ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے پہاڑی ریاستوں جیسے جموں و کشمیر کی صلاحیت کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات میں قائدانہ رول ادا کر رہا ہے اور موسمی پیشن گوئی میں نمایاں بہتری آئی ہے جو مودی حکومت کی اِصلاحات کا نتیجہ ہے۔ اُنہوں نے ذکر کیا کہ مودی حکومت کے تیسرے دور کے آغاز میں ہی 100 سے زائد اہم فیصلے کئے گئے ہیں جن میں طبی سہولیتوں، خلائی تحقیق اور سائنسی ترقی کے شعبے شامل ہیں۔وزیر مملکت نے اودھمپور کی ترقی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ملک کے ترقیاتی ماڈل کے طور پر اُبھرا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوںمیں اودھمپور پی ایم جی ایس وائی کے تحت سڑک کی تعمیر میں پہلے تین اضلاع میں شامل رہا ہے۔ اُنہوں نے دیویکا ریجووینیشن پروجیکٹ، پرپل ریولوشن کی توسیع، اودھمپور کلاری کی جی آئی ٹیگنگ، صنعتی اسٹیٹ کا قیام، اور وندے بھارت ایکسپریس کی اودھمپور میں رُکنے کی منظوری جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا۔اِس موقعہ پر وزیر ستیشن شرما نے خطاب کرتے ہوئے خطے کو اس طرح کے تاریخی پروجیکٹ کا تحفہ دینے کے لئے مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے سینٹرل یونیورسٹی اور اس کی ٹیم کی اِنڈو۔سوئس پہل میں تعاون کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ سے نہ صرف ہندوستان کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی سائنسی کمیونٹیوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اُنہوں نے ماضی میں لینڈ سلائیڈنگ اور بادل پھٹنے کے تباہ کن اثرات کو یاد کیا اور تحقیقی مرکز کو سائنسی تیاری کے ذریعے اس طرح کی آفات کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ممبر قانون ساز اسمبلی چنانی بلونت سنگھ منکوٹیہ نے بھی مرکزی حکومت اور ڈاکٹر جتندر سنگھ کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے عوامی مسائل کو اُجاگر کیا اوراور ان کے جلد ازالے پر زور دیا۔