چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں 3000 کروڑ روپے مالیت کے ڈیزاسٹر رِی کنسٹرکشن پروجیکٹوں کو شروع کرنے پر زور دیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں 3000 کروڑ روپے مالیت کے ڈیزاسٹر رِی کنسٹرکشن پروجیکٹوں کو شروع کرنے پر زور دیا

محکموں کو منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے اور فنڈز کے بروقت اِستعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں آفات سماوی سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ یہ منصوبے سپیشل اسسٹنس ٹو سٹیٹس فار کیپٹل انوسمنٹ (ایس اے ایس سی آئی) کے ڈیزاسٹر کمپوننٹ اور پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسسمنٹ(پی ڈِی این اے) پر مبنی بحالی و تعمیر نو پیکیج کے تحت عمل میں لائے جا رہے ہیں جسے وزارتِ داخلہ نے 2025 کے تباہ کن سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد منظور کیا تھا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی، پرنسپل سیکرٹری ڈِی ایم آر آر اینڈ آر، کمشنر سیکرٹری اَمورِ نوجوان و کھیل کود، منیجنگ ڈائریکٹرجے کے پی ڈِی سی، ڈائریکٹر جنرل اکاؤنٹس اینڈ ٹریجریز، ڈائریکٹر جنرل ریسورسز، ڈائریکٹر جنرل بجٹ اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے نے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تما بحالی کاموں کی بروقت تکمیل پر زور دیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ منصوبوں پر عمل درآمد میں نمایاں تیزی لائیں تاکہ ایس اے ایس سی آئی کے تحت دستیاب فنڈز مقررہ مدت کے اندر مکمل طور پر خرچ کئے جا سکیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ تمام محکمے سکیم کی مقررہ مدت کی پابندی کرتے ہوئے منصوبے وقت پر مکمل کریں۔اُنہوںنے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ پی ڈِی این اے فریم ورک کے تحت تجویز کردہ تمام زیر اِلتوا ٔمستقل بحالی منصوبوں کو فوری طور پر حتمی شکل دے کر پیش کریں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 232 کروڑ روپے مالیت کی اضافی بحالی تجاویز مزید غور کے لئے محکمہ خزانہ کو پیش کی جائیں۔ اَتل ڈولو نے شفافیت کو یقینی بنانے اور اَخراجات کی دوہری اَدائیگی روکنے کے لئے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ ایس اے ایس سی آئی اورپی ڈِی این اے کے تحت تجویز کردہ منصوبے کسی اور سکیم یا ذریعے سے مالی امداد نہیں لے رہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ ایسی سرٹیفکیشن کے بغیر کوئی مالی دعویٰ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔اُنہوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ، پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ مکانات و شہری ترقی کو بھی ہدایت دی کہ وہ مالی سال 2026-27 کے لئے ایس اے ایس سی آئی ڈیزاسٹر کمپوننٹ کے تحت مزید بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں کی تجاویز جلد از جلد پیش کریں۔دورانِ میٹنگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ شیلندر کمار نے دونوں فنڈنگ فریم ورک کے تحت موصول ہونے والی مالی امداد، محکمانہ تخصیصات، پروجیکٹ پورٹ فولیو اور عمل درآمد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اُنہوںنے بتایا کہ جموں و کشمیر کوایس اے ایس سی آئی کے ڈیزاسٹر کمپوننٹ کے تحت 1,431 کروڑ روپے کی اضافی اِمداد مختص کی گئی ہے جو آفاتِ سماوی میں تباہ ہوئے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور مستقبل میں آفات کے خطرات کو کم کرنے کے لئے ہے۔اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر محکمہ تعمیراتِ عامہ کے لئے 860 کروڑ روپے، محکمہ جل شکتی کے لئے 315 کروڑ روپے، محکمہ پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے 173 کروڑ روپے، محکمہ زرعی پیداوار کے لئے 51 کروڑ روپے اور محکمہ اَمورِ نوجوان و کھیل کود کے لئے 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔میٹنگ کو مزید جانکاری دی گئی کہ وزارتِ داخلہ کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی ذیلی کمیٹی (این اِی سی۔ ایس سی ) نے 2025 کے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد تیار کردہ پی ڈِی این اے رِپورٹ کی بنیاد پر بحالی اور تعمیرنو کی سرگرمیوں کے لئے 1579.09 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ اِس میں مرکزی حکومت کا حصہ 1421.12 کروڑ روپے جبکہ جموں و کشمیر یو ٹی کا حصہ 157.91 کروڑ روپے ہے۔میٹنگ یہ بھی بتایا گیا کہ منظور شدہ امداد متعدد شعبوں پر محیط ہے جن میں ہاؤسنگ، تعلیم، صحت، پبلک انفراسٹرکچر، سڑکیں، پینے کے پانی کی فراہمی، صفائی، بجلی، آبپاشی، زراعت، سیاحت، باغبانی اور ماحولیاتی بحالی شامل ہیں۔ اِمداد کا سب سے بڑا حصہ انفراسٹرکچر کے شعبوں بالخصوص سڑکوں، عمارتوں، بجلی کے نظام اور پانی کی فراہمی کے نیٹ ورکس کے لئے مختص کیا گیا ہے جنہیں آفات کے دوران بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ محکمانہ تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ پی ڈِی این اے فریم ورک کے ساتھ مفاہمت اور اوور لیپنگ کاموں کے خاتمے کے بعدایس اے ایس سی آئی کے تحت تقریباً 1,196 کروڑ روپے کی پروجیکٹ پروپوزل کو حتمی شکل دی گئی ہے جبکہ 1,025 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبے بیمز پلیٹ فارم پر اَپ لوڈ کئے جا چکے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے منظور شدہ کاموں کی تکمیل کے لئے مختلف محکموں کو 429 کروڑ روپے سے زیادہ جاری کیے ہیں۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے حکومت کے مضبوط اوردیرپا تعمیر نو اور آفات سے نمٹنے کے تئیں حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ بحالی کے اقدامات صرف تباہ شدہ اثاثوں کی تعمیر نو تک محدود نہ ہوں بلکہ عوامی بنیادی ڈھانچے کو اس قدر مضبوط بنایا جائے کہ وہ مستقبل کی آفات کا بھی مؤثر مقابلہ کر سکے تاکہ جموں و کشمیر بھر میں عوام کی جان و مال، روزگار اور بنیادی خدمات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔