چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں پی ایم فصل بیمہ یوجنا کی پیش رفت کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں پی ایم فصل بیمہ یوجنا کی پیش رفت کا جائزہ لیا

کسانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور دعوئوں کی بروقت تصفیے پر زور

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے سٹیٹ لیول کوآرڈی نیشن کمیٹی برائے فصل بیمہ ( ایس ایل سی سی سی آئی ) میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) اور دیگر متعلقہ فصل بیمہ سکیموں کی عمل آوری اور پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار، منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے بینک، ڈائریکٹر زراعت کشمیر و جموں، کنوینر یو ٹی ایل بی سی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کے نفاذی فریم ورک کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی حکومت کے رہنما خطوط کے مطابق کسان رِن (کے آر آئی این) پورٹل پر درج تمام اہل کسانوں کو سکیم کے تحت شامل کیا جائے۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں، بینکوں اور دیگر شراکت داروں کو ہدایت دی کہ وہ سکیم کے تحت اہل کسانوں کی ہمہ گیر کوریج حاصل کرنے کے لئے قریبی تال میل سے کام کریں۔اُنہوںنے جاری ’کھیت بچاؤ ابھیان‘کو کسانوں میں بیداری پیدا کرنے اور انہیں فصل بیمہ کے فوائد سے مستفید ہونے کی ترغیب دینے کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مہم کسانوں کو بیمہ کے ذریعے خطرات سے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور اس کسان دوست فلاحی سکیم میں ان کی شمولیت بڑھانے کا بہترین موقعہ فراہم کرتی ہے۔ اُنہوں نے بینکوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ اَپنے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی ) صارفین تک رسائی حاصل کر کے انہیں پی ایم ایف بی وائی میں شامل کریں۔ چیف سیکرٹری نے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور نچلی سطح پر مسائل حل کرنے کے لئے تجویز دی کہ محکمہ زرعی پیداوار پی ایم ایف بی وائی کے لئے ضلع وار نوڈل اَفسران کو نامزد کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اَفسران بینکوں، بیمہ کمپنیوں اور ضلعی اِنتظامیہ کے ساتھ مل کر رُکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے اَزالے، اہل کسانوں کے اِندراج میں سہولیت اور سکیم کی مؤثر عمل آور ی کو یقینی بنائیں گے۔ اُنہوں نے فصلوں کوآفاتِ سماوی اور موسمی تغیرات سے پیداہونے والے فصلوں کے نقصانات سے کسانوں کے تحفظ کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ اِنشورنس کوریج کو بڑھانے اور کسان کمیونٹی کی مالی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ کوششیں کریں۔دورانِ میٹنگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار ڈاکٹر آشیش چندر ورما نے سکیم کے آغاز سے لے کر اَب تک کی کارکردگی، خریف 2025 کے دعوؤں کی صورتحال، ربیع 2025-26 کے دوران حاصل شدہ کوریج، قرض دہندہ کسانوں کی شمولیت اور ری سٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ اِنشورنس سکیم (آر ڈبلیو بی سی آئی ایس) کی عمل آوری سے متعلق تفصیلی جانکاری دِی۔اُنہوں نے پی ایم ایف بی وائی کے تحت کسانوں کی شرکت کو بڑھانے کے لئے نچلی سطح پر فصل بیمہ کے فوائد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے معلومات کی وسیع تر تشہیر کے ساتھ ساتھ محکمہ زرعی پیداوار’کھیت بچاؤ ابھیان‘ اور دیگر سرکاری عوامی رَسائی پروگراموں کو بھی اس مقصد کے لئے اِستعمال کرے گا۔
میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ جموں و کشمیر میں پی ایم ایف بی وائی کے آغاز سے اَب تک 12.89 لاکھ سے زائد کسانوں کو سکیم کے تحت شامل کیا گیا ہے جبکہ 6.85 لاکھ سے زیادہ کسان دعوؤں کی ادائیگی سے مستفید ہو چکے ہیں۔میٹنگ میں ڈائریکٹر زراعت کشمیر کی طرف سے مزید بتایا گیاکہ اس سکیم کے تحت ربیع 2025 تک 4.05 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ کے مجموعی رقبے کا بیمہ کیا گیا ہے۔ 463.37کروڑ روپے کے مجموعی پریمیم کے مقابلے میں 220.35 کروڑ روپے کے دعوے کسانوں کے حق میں نمٹائے جا چکے ہیںجس سے فصلی نقصانات کی صورت میں اہم مالی معاونت فراہم ہوئی۔خریف 2025کے دعووں کی صورتحال کاجائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ 53.58 کروڑ روپے کے دعوے جمع کئے گئے ہیں جن میں یونین ٹیریٹری میں 1.27 لاکھ کسانوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے خریف 2025 کے دوران تقریباً 2.01 لاکھ کسانوں کا پی ایم ایف بی وائی کے تحت اندراج کیا گیاجس میں 75,000 ہیکٹر سے زیادہ کا بیمہ شدہ رقبہ شامل ہے۔میٹنگ میں ربیع 2025-26 کے دوران مقامی آفات اور کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کے دعوئوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ کسانوں کی جانب سے زائد اَز 2100 نقصان کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں جن میں 5.52 کروڑ روپے سے زائد کی دعوے کی رقم شامل ہے۔محکمہ زرعی پیداوار ان دعوؤں کی بروقت جانچ اور تصفیے کے لئے تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ربیع 2025-26 کے دوران حاصل شدہ کوریج کے بارے میں چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر نے گزشتہ سیزن کے مقابلے فصل بیمہ پروگرام میں کسانوں کے اندراج اور رقبے کی کوریج میں نمایاں ترقی ریکارڈ کی ہے ۔ میٹنگ کو بتایاگیا کہ جموںوکشمیر یوٹی نے حصہ لینے والی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں کسانوں کے اندراج میں سب سے زیادہ شرح نمو حاصل کیا ہے۔
پی ایم ایف بی وائی کے تحت کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) ہولڈروں کی کوریج کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ اگرچہ اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اہل قرض لینے کے اہل کسانوں کی مکمل شمولیت کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔میٹنگ میں جموں و کشمیر میں ری سٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ اِنشورنس سکیم (آر ڈبلیو بی سی آئی ایس) کی عمل آوری پر بھی تفصیلی غور خوض کیا گیا۔ پریمیم ڈھانچے، مالی اثرات اور ٹینڈرنگ کے عمل سے متعلق تفصیلی پرزنٹیشنز پیش کی گئیں۔مرکزی حکومت کی طرف سے پی ایم ایف بی وائی اور آر ڈبلیو بی سی آئی ایس کے آپریشنل گائیڈ لائنز میں مجوزہ ترامیم اور خریف 2026 سے شروع ہونے والے قومی ٹینڈر سائیکل سے متعلق جاری کردہ مشاورتی احکامات پر بھی میٹنگ میں بحث وتمحیص ہوئی۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ زرعی پیداوار کو ہدایت دی کہ وہ مرکزی حکومت کے رہنما خطوط اوراُبھرتے ہوئے پالیسی فریم ورک کے مطابق فصل بیمہ سکیموں کے بروقت عمل آوری کے لئے تمام ضروری تیاری کے اقدامات کریں۔اُنہوں نے فصل بیمہ کوریج کو مضبوط بنانے اور زرعی شعبے کو موسمی اور دیگر پیداواری خطرات کے خلاف زیادہ مستحکم بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ کسانوں کی آمدنی اور معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔