چیف جسٹس نے کمپیوٹر سکل اینہانسمنٹ کے تربیتی پروگرام کا اِفتتاح کیا

چیف جسٹس نے کمپیوٹر سکل اینہانسمنٹ کے تربیتی پروگرام کا اِفتتاح کیا

جموں//چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس تاشی ربستن نے آج جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی جانی پور میں جموں ضلع کے وکلاء کے لئے’’ کمپیوٹر سکل اینہانسمنٹ۔ لیول اوّل و دوم(اِی سی ٹی۔7۔2024 اور اِی سی ٹی ۔12۔2024)کے ایک روزہ تربیتی پروگرام کا اِفتتاح کیا۔اِس موقعہ پر چیف جسٹس نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جج جسٹس اتل سری دھرن اورجموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جج ( چیئرپرسن گورننگ برائے جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی ) جسٹس سندھ شرماکی موجودگی میں دو اہم مجموعے جاری کئے۔یہ تربیتی پروگرام سپریم کورٹ آف اِنڈیا کی اِی۔ کمیٹی کے اِشتراک سے منعقد کیا گیا۔ اِفتتاحی سیشن میں رجسٹرار جنرل جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ شاہزاد عظیم،چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے پرنسپل سیکرٹری ایم کے شرما، رجسٹرار ویجی لنس راجیو گپتا، رجسٹرار جوڈیشل سندیپ کور، ممبر سیکرٹری جے اینڈ کے لیگل سروس اتھارٹی شازیہ تبسم، رجسٹرار کمپیوٹر ( آئی ٹی ج) جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ انوپ شرما، سی پی سی فیاض احمد قریشی، جوائنٹ رجسٹرارپروٹوکول ماینک گپتااورسیکرٹری ہائی کورٹ لیگل سروس کمیٹی جیون کمارنے شرکت کی۔پروگرام کے اِفتتاحی سیشن میں رجسٹرار ریکروٹمنٹ ستیندر سنگھ ،صدر جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں کے نرمل کوتوال اور ان کے ایگزیکٹیو ممبران اور صدرجموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ینگ لائرز ایسوسی ایشن بھگیرتھ نے بھی شرکت کی۔اِس موقعہ پر چیف جسٹس نے باضابطہ طور پر دو مجموعے جاری کئے جن میں’’بریکنگ بیریئرز: لینڈ مارک اور حالیہ فیصلے پی او سی ایس او ایکٹ کی تشکیل‘‘، اور’’اِنصاف کی نئی تعریف: جوینائل جسٹس (کیئر اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2015 کی شکل دینے والے تاریخی اور حالیہ فیصلے‘ ‘جو انمول وسائل کے طور پر کام کریں گے۔یہ مجموعے اہم عدالتی فیصلوں کا خلاصہ پیش کرتے ہیں جو ملک میں بچوں کے تحفظ کے قوانین کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔چیف جسٹس نے اَپنے افتتاحی خطاب میں اِس بات پر زور دیا کہ قانون اور ٹیکنالوجی کا امتزاج اَب مستقبل کا تصور نہیں رہابلکہ یہ آج کی حقیقت بن چکا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ عدالتوں کے عمل کی تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن، اِی۔کورٹس سروسز کی ترقی اور قانونی پیشے میں معلوماتی ٹیکنالوجی کا انضمام اِنصاف کے حصول، سمجھنے اور اس کی ترسیل کے طریقوں کو یکسر تبدیل کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ کسی بھی عدالتی نظام کی طاقت بینچ اور بار کے باہمی تعاون میں مضمر ہوتی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے عدالتیں اِی۔فائلنگ، ورچیول سماعتوں، ڈیجیٹل ڈسپلے بورڈوں اور آن لائن کیس مینجمنٹ سسٹمز کی طرف بڑھ رہی ہیں، اسی طرح وکلأکو بھی ان نظاموں کے ساتھ مؤثر طریقے سے کام کرنے کی مہارت اور اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔ جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جج جسٹس سندھو شرمانے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میںکہا کہ اِی۔کورٹس پروجیکٹ کے تحت اُٹھائے گئے اَقدامات محض پالیسی دستاویزات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک وژن ہے جس کا مقصد عدالتی خدمات کو شہریوں کی دسترس میں لانا ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ اِس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی وکیل اِس عمل میں پیچھے نہ رہ جائے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری اِجتماعی ذمہ داری ہے کہ تکنیکی ترقی کسی تفریق کا باعث نہ بنے بلکہ نظام کو بہترین کارکردگی کے مشترکہ حصول کے لئے متحد کرے۔ اُنہوں نے جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈمی کی دو اہم مجموعے جاری کرنے کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔پہلے تکنیکی سیشن کی صدارت ہائی کورٹ مدھیہ پردیش کے جج جسٹس اتل سری دھرن نے کی۔ اُنہوں نے بطور جج اپنے تجربات سے قیمتی معلومات فراہم کی اور عدالتی عمل میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رول پر زور دیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ جدید جج آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی) کے ٹولز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو اپنے کام بالخصوص فیصلے لکھنے اور جاری کرنے کے عمل میں شامل کر رہے ہیں ۔ جسٹس اتل سری دھرن نے فیصلوں کو ٹائپ کرنے کے لئے مائیکروسافٹ ورڈ کے عملی اِستعمال کی وضاحت کی جس میں ٹیمپلیٹس، فارمیٹنگ ٹولز اور آٹو۔سائٹیشن مینجمنٹ جیسے جدید فیچرز شامل ہیں جو عدالتی فیصلوں کی تیاری میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آن لائن لیگل ریسرچ پورٹلز ، اے آئی سے چلنے والے کیس لا ڈیٹا بیسز اور ڈکٹیشن سافٹ ویئر فیصلے کی تحریر کے روایتی انداز کو تبدیل کر رہے ہیں۔ مزید برآں، اُنہوں نے ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ عدالتی کام کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
رجسٹرار کمپیوٹر (آئی ٹی)جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ انوپ شرما نے اَپنی ٹیم کے ساتھ دوسرے تکنیکی سیشن کا اِنعقاد کیا ۔ اُنہوں نے وکلأ کے روزمرہ کام میں معاون اِی۔کورٹ سروسز اور اَقدامات پر روشنی ڈالی جن میں اِی۔کورٹ سروسز پورٹل، اِی۔کورٹ سروسز ایپ، ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کے لئے ڈسپلے بورڈز، اِی۔فائلنگ وغیرہ شامل ہیں۔ماہرین نے واضح کیا کہ اِی۔فائلنگ عدالت میں دستاویزات کو الیکٹرانِک جمع کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اِس طرح وقت اورکاغذات دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ سیشن کا اِختتام ایک اِستفساری سوال و جواب سیگمنٹ کے ساتھ ہوا جس میں شرکأ نے اِی۔کورٹ سروسز اور دیگر متعلقہ ماڈیولز پر اِستفساری گفتگو کی۔ڈائریکٹر جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی سونیا گپتانے اِفتتاحی سیشن کی نظامت کے فرائض اَنجام دئیے ۔تمام سیشن نہایت مؤثر اور اِستفساری رہے جن میں تمام شرکأنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اَپنے تجربات، اور مسائل کا تبادلہ کیا اور موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی۔ اُنہوں نے متعدد سوالات بھی اُٹھائے جن کے ریسورس پرسنوں نے تسلی بخش جوابات دئیے۔