چکھڑی بن:ایک پوشیدہ جنت نظیر سیاحتی اور روحانی مرکز

محمد اشفاق شاہ نعیمی

جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھکی تحصیل منڈی میں واقع گائوں چکھڑی بن اپنی قدرتی خوبصورتی، روحانی عظمت، تاریخی اہمیت اور ثقافتی ورثے کے باعث ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ تقریباً 300 گھروں پر مشتمل یہ خوبصورت گائوں صدیوں پرانی تاریخ کا امین ہے، جہاں مختلف برادریوں اور قبائل کے لوگ محبت، رواداری اور بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
چکھڑی بن کو ساداتِ کرام کی روحانی سرپرستی حاصل ہے۔ یہاں ساداتِ گیلانیہ کا ایک قدیم قبرستان موجود ہے، جو اہلِ علاقہ کے نزدیک فیوض و برکات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ سادات اپنے سلسلہ نسب کے ذریعے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے جا ملتے ہیں، جس سے اس بستی کی روحانی عظمت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ گائوں میں ایک قدیم ولی اللہ کی بیٹھک بھی موجود ہے، جو ماضی کی روحانی روایات کی یاد تازہ کرتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی چکھڑی بن ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ قریش برادری سے تعلق رکھنے والے کئی نامور اساتذہ نے اس علاقے کو علمی شناخت عطا کی، جن میں پیر وزیر شاہ، استاد اکبر شاہ، استاد حبیب اللہ شاہ، پیر انور شاہ اور ماضی قریب کے درخشاں علمی ستارے استاد غلام حسن شاہ صاحب شامل ہیں۔ ان شخصیات کی خدمات کے باعث یہ علاقہ علمی اور ادبی حوالے سے بھی ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
اسی گائوں میں حضرت پیر احمد شاہ صاحب المعروف پستونی صاحبؒ کی زیارت بھی واقع ہے، جو چورہ شریف سے ہجرت کرکے یہاں تشریف لائے تھے۔ روایت کے مطابق آپ پیر وزیر شاہ قریشی کے گھر میں مقیم ہوئے اور بعد ازاں خاندانی رشتہ بھی قائم ہوا۔ آج بھی آپ کا مزار عقیدت مندوں کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیارت کے قریب واقع مرکزی جامع مسجد، جامع مسجد حضرت ابوبکر صدیقؓ، اہلِ ایمان کے لیے ایک اہم دینی و روحانی مرکز ہے۔
قدرت نے اس گائوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہاں بہتے چشمے، ندی نالے، آبشاریں، گھنے جنگلات اور برف پوش پہاڑ اس علاقے کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار ہو جاتا ہے جبکہ سردیوں میں شدید برفباری پورے علاقے کو سفید چادر میں ڈھانپ لیتی ہے۔ جگہ جگہ میٹھے اور ٹھنڈے پانی کے چشمے قدرت کا حسین تحفہ محسوس ہوتے ہیں۔
چکھڑی بن اور اس کے گرد و نواح کے علاقے بن اول، درمیانہ بن، بن بالا اور ناگاناڑی قدرتی حسن سے مالا مال ہیں، مگر افسوس کہ آج بھی یہ علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ آزادی کے کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہاں کے لوگ سڑک، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دشوار گزار راستوں کی وجہ سے لوگ آج بھی روزمرہ ضروریات کا سامان اپنے کندھوں پر اْٹھا کر گھروں تک پہنچاتے ہیں۔ مریضوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کو خصوصاً شدید مشکلات پیش آتی ہیں، جبکہ جنگلی جانوروں کا خطرہ الگ موجود رہتا ہے۔
یہ علاقہ تاریخی لحاظ سے بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ بن ناگاناڑی سے گزرنے والا قدیم راستہ چھپراں، بڑی بہک، گلی، ڈوبا اور وادی کشمیر تک جاتا ہے۔ یہی راستہ کملہان، اڑائی، لوہل بیلہ، بلیدہ اور کلیاں سے گزرتے ہوئے نین سکھ، نورپور، آریزال، دودھ پتھری اور توشہ میدان کے ذریعے وادی کشمیر سے جڑتا ہے۔ اگر ان راستوں کو بہتر بنایا جائے تو یہ علاقہ نہ صرف سیاحت بلکہ تجارت اور رابطہ کاری کے لیے بھی اہم مرکز بن سکتا ہے۔
گائوں میں تقریباً گیارہ چھوٹی بڑی مساجد موجود ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر قدیم بیٹھکیں آج بھی مہمان نوازی اور سماجی ہم آہنگی کی خوبصورت روایت کی عکاسی کرتی ہیں۔ تعلیم کے لیے ایک قدیم مڈل اسکول، دینی مدارس اور عصری تعلیمی ادارے موجود ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے ایک ڈسپنسری بھی قائم کی گئی ہے۔ تاہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مزید توجہ کی ضرورت ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق فصلوں کے موسم میں جنگلی جانور، خصوصاً ریچھ، مقامی آبادی اور اسکولی بچوں کے لیے مستقل خطرہ بنے رہتے ہیں، مگر محکمہ وائلڈ لائف کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سردیوں میں برفباری زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے جبکہ گرمیوں میں مقامی لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ ڈھوکوں کا رخ کرتے ہیں اور کئی ماہ وہیں قیام کرتے ہیں۔
چکھڑی بن اور اس کے نواحی علاقے اپنی قدرتی خوبصورتی، روحانی فضا اور تاریخی اہمیت کے باعث ایک بڑے سیاحتی مرکز کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت اور محکمہ سیاحت اس جانب سنجیدہ توجہ دیں، سڑکوں کا جال بچھایا جائے، بنیادی ڈھانچہ بہتر بنایا جائے اور سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ علاقہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس سے مقامی معیشت مستحکم ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اہلِ علاقہ نے حکومت سے پْرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
گائوں کے تمام حصوں تک سڑکوں کی تعمیر مکمل کی جائے۔
صحت اور تعلیمی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔
جنگلی جانوروں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
سیاحت کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے۔
بلاشبہ چکھڑی بن ایک ایسا خوبصورت خطہ ہے جو قدرتی حسن، روحانی عظمت، تاریخی اہمیت اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ اگر اس پر توجہ دی جائے تو یہ علاقہ مستقبل میں پونچھ کا ایک نمایاں سیاحتی اور روحانی مرکز بن سکتا ہے۔

رابطہ نمبر: 9086112262