سونم وانگچک کی بھول ہڑتال اور بھوک ہڑتال کی تاریخ

سونم وانگچک کی بھول ہڑتال اور بھوک ہڑتال کی تاریخ

محمد ریحان

سونم وانگچک نہ صرف ایک انجینئر، ایک ماہر تعلیم اور ایک Innovator ہیں بلکہ عزم و حوصلہ کی ایک غیرمعمولی مثال بنے ہوئے ہیں۔ فلم ہدایت کار راجکمار ہیرانی نے ان کی زندگی پر ایک فلم 3idiots بنائی۔ سال 2009ء میں بنائی گئی اِس فلم میں بالیل ووڈ کے پرفیکشنسٹ عامر خان نے سونم وانگچک کا کردار ادا کیا اور اس خوبصورتی سے ادا کیاکہ آج بھی وہ کردار لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ پروڈیوسر ونود چوپڑا کی اس فلم میں عامر خان کے ساتھ آر مہادھون اور شرمن جوشی کے بھی اہم کردار تھے جبکہ کرینہ کپور، بومن ایرانی، مونا سنگھ اور اومی ویدپا کے سپورٹنگ رولس بھی بڑے جاندار تھے۔ فلم تھری ایڈیٹس کی کہانی ابھیجیت جوشی، راجکمار ہیرانی اور چیتن بھگت نے ملکر لکھی تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 55 کروڑ روپئے کے بجٹ سے بنائی گئی تھری ایڈیٹس نے باکس آفس پر 400.61 کروڑ روپئے کی کمائی کی۔ تھری ایڈیٹس نے 57 ویں نیشنل فلم ایوارڈس میں 3 ایوارڈس حاصل کئے جبکہ 55 ویں فلم فیر ایوارڈس میں 6 ایوارڈس حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ اور بات ہے کہ عامر خاں نے حال ہی میں شائد حکومت کے ڈر سے یہ کہا ہے کہ فلم 3 ایڈیٹس سونم وانگچک کی زندگی پر نہیں بنائی گئی، بہرحال ہم یہاں بات کررہے ہیں سونم وانگچک کی جنھوں نے مرکزی وزیر تعلیم کی بار بار ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔ ان کی ہڑتال 21 ویں دن میں داخل ہوگئی جبکہ ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمی ستاروں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور دہلی پولیس نے سونم وانچک کو زبردستی صفدر جنگ اسپتال منتقل کردیا۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے اس خیال کا اظہار کیاکہ سونم وانگچک کو وزیر تعلیم کے عہدہ پر فائز کیا جائے۔ ملک کی ممتاز شخصیتوں بشمول ماہر تعلیم و فنکاروں بالخصوص فلمی ستاروں نے اپنی جذباتی اپیل جاری کی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم آپ سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کرتے ہیں، آپ بہت قیمتی ہیں، آپ ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں، اس قسم کے افسوسناک طریقہ سے آپ سے محروم ہونا بڑا نقصان ہوگا۔ سونم وانگچک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان سے اپیل کرنے والوں میں اروندھتی رائے، امیتا وگھوش، انیتا دیسائی، فلمساز زویا اختر، میرا نائر، کرن راؤ، وکرما دتیہ موٹوانی، نندیتا داس جیسی شخصیتیں شامل ہیں۔ ان شخصیتوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سونم وانگچک جیسے مخلص شہری کے ساتھ بات چیت شروع کرے اور اس عوامی خدمت کے جذبہ کا احترام جس کی نمائندگی سونم وانگچک کرتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے سونم وانگچک کا جسمانی وزن 9.5 کیلو گرام کم ہوگیا ہے جبکہ بلڈ شوگر لیول میں بھی مسلسل کمی آرہی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ وانگچک نے 28 جون کو جنتر منتر پر اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ وانگچک سے اگرچہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کی بار بار اپیلیں کی جارہی ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں آپ سے صرف دو باتیں کہنا چاہوں گا۔ لوگ ایسے ہی بھوک ہڑتال پر بیٹھتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں اور میں حکومت کو ہرگز ایسا تاثر نہیں دے سکتا۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ سال 2023ء کے اواخر میں مسٹر سونم وانگچک کو جو ریمن میگسیسے ایوارڈ یافتہ ہیں قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ دراصل انھوں نے لداخ کے لوگوں کی آواز بننے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت ان کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے کہا تھا کہ سونم وانگچک اپنے لوگوں کے مسائل اُٹھا رہے تھے، ان کی آواز بن رہے تھے تب ہی تو ان کے خلاف ہندوستان مخالف ہونے کے الزامات عائد کئے گئے۔ یکم ستمبر 1966ء کو جموں و کشمیر کے آلچی میں پیدا ہوئے سونم وانگچک نے این آئی ٹی سرینگر سے بی ٹیک کیا اور اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچر موؤمنٹ آف لداخ نامی ایک تنظیم سے وابستہ ہوئے۔ وہ آئس اسٹوپا، SECMOL لداخ میلانگ اور آپریشن نیو ہوپ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اس سے قبل بھی وانگچک نے دو مرتبہ بھوک ہڑتال کی تھی۔ وہ لداخ کے مسائل کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ 28 جون سے وانگچک نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن AISA کے 6 طلبہ کے ساتھ جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کررہے ہیں اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں کسی بھی طرح 20 جولائی تک زندہ رہوں گا تاکہ پارلیمنٹ تک مارچ کرسکوں اور اگر پارلیمنٹ تک ہمارا مارچ کامیاب نہ ہوا تو میں ایک GHOST کی طرح واپس ہوں گا۔ جہاں تک بھوک ہڑتال کا سوال ہے ہندوستان میں بھوک ہڑتال کی اپنی ایک تاریخ رہی ہے۔ مہاتما گاندھی کی زیرقیادت تحریک آزادی میں انگریزوں کے خلاف بھوک ہڑتال کی گئی تھی۔ گاندھی جی سے بھگت سنگھ تمام مجاہدین آزادی نے بھوک ہڑتال کی۔ بھوک ہڑتال کو انگریزوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مہاتما گاندھی نے بھوک ہڑتال اور ستیہ گرہ کو ایک اخلاقی دباؤ یا Moral Pressure کے طور پر استعمال کیا۔ وہ چھوت چھات اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف بھی (مثال کے طور پر 1929ء کے فرقہ وارانہ تشدد) بھوک ہڑتال کرتے۔ جب بات بھوک ہڑتال کی ہو اور IROM SHARMILA کا ذکر نہ ہو تو وہ بات نامکمل رہ جائے گی۔ شرمیلا کو منی پور کی خاتون آہن کہا جاتا ہے۔ انھوں نے AFSPA قانون کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے سال 2000ء میں بھوک ہڑتال شروع کی اور سال 2016ء میں ختم کی۔ یعنی شرمیلا نے 16 برسوں تک بھوک ہڑتال کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ انا ہزارے نے دہلی کے رام لیلا میدان پر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی اور وہ بھوک ہرتال 13 روز تک جاری رہی۔ بہرحال بھوک ہڑتال ہندوستانی جمہوریت کی ایک خوبی رہی۔ آپ کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ 1918ء اور 1948ء میں ناتھو رام گوڈسے کے ہاتھوں اپنے قتل تک گاندھی جی نے بار بار بھوک ہڑتال کی۔ گاندھی جی نے کم از کم 15 بڑی بھوک ہڑتالیں کیں۔ ان کی سب سے زیادہ طویل بھوک ہڑتال 21 دن کی رہی۔ انھوں نے آخری بھوک ہڑتال جنوری 1948ء میں کی جو صرف 5 دن تک جاری رہی جس سے دہلی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی و امن کی بحالی میں مدد ملی۔ سماجی جہدکار انا ہزارے کی 13 روزہ بھوک ہڑتال نے ملک میں انسداد رشوت ستانی کی تحریک کو مستحکم کیا جبکہ مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دیئے جانے کے خلاف ایرم شرمیلا نے 16 برسوں تک غذا کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے ساری دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا۔ اسی طرح ماحولیات کی جہدکار میدھا پاٹیکر نے کئی مرتبہ بھوک ہڑتال کی۔ انھوں نے ڈیم پراجکٹس میں بے گھر ہونے والے افراد کی بازآبادکاری، انھیں معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھوک ہڑتالیں کی تھی۔