کاروبار سے زیادہ چہل پہل اوررونق کی کمی محسوس ہوئی ،چھاپڑی فروشوں کی خاموش چیخ
سرینگر// سرینگر کا سنڈے مارکیٹ، جہاں ہر اتوار زندگی چہک اٹھتی تھی، آج قدرے ویران میدان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ گلیاں جو سیاحوں کی آوازوں سے گونجتی تھیں، آج خاموش ہیں۔ پہلگام سانحے کے بعد شہر کی فضا جیسے سہم گئی ہو، اور اس سناٹے میں سب سے دبی دبی چیخ ان چھاپڑی فروشوں کی ہے، جن کی دنیا صرف ایک ریڑھی کے گرد گھومتی ہے۔ایک کم عمر لڑکا، شاید ابھی جوانی کی دہلیز پر ہی ہو، لکڑی کے کھلونے سجائے بیٹھا تھا۔ پاس آ کر بات کی تو وہ مسکرایا، لیکن وہ مسکراہٹ آنکھوں کا درد چھپا نہ سکی۔”ابو نے کہا تھا کہ آج شاید کچھ سیاح آئیں گے، لیکن کوئی نہیں آیا۔ صبح سے شام ہو گئی، کھلونوں کو ہاتھ بھی نہیں لگا کسی نے۔ ابو کہہ رہے تھے کہ شاید اگلے ہفتے بہتر ہو جائے، لیکن اْن کی آواز میں بھی یقین نہیں تھا۔”کچھ فاصلے پر بیٹھی زبیدہ بیگم کشمیری شالیں بیچتی ہیں۔ ان کی جھریوں سے وقت کی تھکن صاف دکھائی دیتی تھی۔”ہم یہاں صرف سامان نہیں بیچتے بیٹا، ہم امیدیں بیچتے ہیں۔ جب کوئی کچھ خریدتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم جینے کا جواز پا لیتے ہیں۔ لیکن آج ہر چیز ساکت ہے، جیسے وقت بھی رْک گیا ہو۔”ان کے پاس کھڑی چھوٹی بچی اپنی ماں کی طرف دیکھ رہی تھی، شاید کسی نئی گاہک کی امید میں۔ وہ بچی، جسے دنیا شاید ابھی رنگین لگتی ہو، آج چپ چاپ تھی۔ بازار کے وہ رنگ جو بچوں کی ہنسی سے روشن ہوتے تھے، آج ماند پڑ چکے تھے۔بہت سے دکانداروں نے اپنی چھوٹی چھوٹی دکانیں آدھے دن میں ہی سمیٹ لیں۔ ان کے چہروں پر ہار جانے کا احساس تھا، لیکن لب خاموش۔ نذیر، جو ہاتھ سے بنے ہوئے چوغے بیچتے ہیں، دیر تک گاہکوں کا انتظار کرتے رہے۔ آخرکار جب کوئی نہ آیا تو وہ سر جھکا کر بولے،”یہ صرف کاروبار نہیں، یہ ہماری زندگی ہے۔ جب بازار سن ہوتا ہے، تو لگتا ہے جیسے ہم خود مٹی ہو گئے ہوں۔”سنڈے مارکیٹ آج بھی لگا، لیکن وہ دھڑکن غائب تھی جو اسے زندہ رکھتی تھی۔ پہلگام کے سائے ابھی تک ان چہروں پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ صرف خوف نہیں، یہ ایک اجتماعی صدمہ ہے جس نے ان چھوٹے چھوٹے خوابوں کو بھی ساکت کر دیا ہے جو ان ریڑھیوں پر سجے ہوتے تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلگام میں پیش آئے دلخراش سانحے نے نہ صرف وادی کیحالات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ اس کا اثر وادی کی معیشت، خاص کر چھوٹے کاروباری طبقے پر بھی گہرائی سے پڑا ہے۔ سرینگر کا معروف “سنڈے مارکیٹ” جو ہر اتوار ہزاروں سیاحوں سے آباد رہتا تھا، اس بار غیر معمولی سناٹے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ جہاں کبھی خریداروں کا ہجوم ہوتا تھا، وہاں آج ہو کا عالم تھا۔سڑک کے کنارے اپنی چھوٹی سی ریڑھی پر گرم شالیں بیچنے والے بشیر احمد کہتے ہیں،”جب پہلگام کا واقعہ ہوا، تب سے بازار میں ویرانی ہے۔ سیاح تو کیا، مقامی لوگ بھی ڈرے ہوئے ہیں۔ آج صبح سے شام ہو گئی، بس دو گاہک آئے۔ ایسے کیسے گھر چلائیں؟”سنڈے مارکیٹ میں ایسے درجنوں چھاپڑی فروش ہیں جو ہر اتوار اپنی روزی کے لیے اس مارکیٹ میں آتے ہیں۔ کوئی ہینڈ میڈ جیولری بیچتا ہے، کوئی کشمیری مصالحے، تو کوئی قالین کے چھوٹے نمونے۔ ان سب کی امیدیں سیاحوں سے جڑی ہوتی ہیں، اور سیاحتی سیزن میں یہ دن ان کے لیے کمائی کا سب سے اہم ذریعہ ہوتا ہے۔دوسری طرف، مارکیٹ ذمہ دار وں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ “یہ صرف کاروبار کی بات نہیں، یہ جذبات اور بھروسے کا مسئلہ ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے، سب سے پہلے چھوٹا کاروباری طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان متاثر چھاپڑی فروشوں کے لیے فوری امداد کا اعلان کرے تاکہ یہ لوگ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں۔”










