پہلگام میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا 75 فیصد کام مکمل اور نظرثانی شدہ منظور ی کا عمل جاری۔وزیر صحت سکینہ اِیتو

پہلگام میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا 75 فیصد کام مکمل اور نظرثانی شدہ منظور ی کا عمل جاری۔وزیر صحت سکینہ اِیتو

سری نگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایا کہ پہلگام میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال بلاک کی تعمیر میں تقریباً 75 فیصد فزیکل پیش رفت حاصل ہو چکی ہے اور باقی ماندہ کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے۔وزیر موصوفہ رُکن اسمبلی پہلگام الطاف احمد وانی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ محکمہ صحت و طبی تعلیم نے ’سرکاری حکم نمبر 244۔جے کے (ایچ ایم ای) 2020، بتاریخ 12 ؍مارچ 2020 کے تحت پہلگام میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر کے لئے 19.90 کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت پر اِنتظامی منظوری دی تھی۔ اِس منصوبے میں ہسپتال کی عمارت کی تعمیر کے ساتھ ساتھ متعلقہ سول، الیکٹریکل، میکنیکل اور دیگر متعلقہ کام شامل ہیں۔وزیر صحت نے کہا کہ منصوبے کے لئے 16.75 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیںجبکہ 31 ؍مارچ 2026 تک 10.53 کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے تھے۔ محکمانہ بیان کے مطابق رواں مالی برس کے دوران مزید 33.31 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ منصوبہ تسلی بخش طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے اور تقریباً 75 فیصدطبعی پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔سکینہ اِیتونے کہا کہ ڈِی جی سیٹ کامیابی سے نصب اور حوالے کیا جا چکا ہے جبکہ لانڈری سسٹم، سینٹرل سٹیرائل سپلائی ڈیپارٹمنٹ (سی ایس ایس ڈِی) اور سٹیرائل ٹنل پروجیکٹ (ایس ٹی پی) فراہم/نصب کئے جا چکے ہیں اور اس وقت کمیشننگ کے مرحلے میں ہیں۔ہسپتال کی لفٹ کی تنصیب بھی جاری ہے جبکہ باقی ماندہ میکنیکل اورالیکٹریکل پرزوں کی تکمیل پر کام ہو رہا ہے ۔اُنہوں نے تاخیر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کام کے دوران، جگہ کی ٹوپوگرافی اور سطح کے فرق کی وجہ سے ایک اضافی بیسمنٹ ضروری ہو گیا۔اِس کے نتیجے میں تعمیر شدہ رقبے میں اضافہ ہوا اور اسی وجہ سے اضافی ساختی، تعمیراتی، متعلقہ، میکنیکل اور الیکٹریکل کاموں کی ضرورت پیش آئی جس کے باعث منصوبے کی لاگت پر نظرثانی کرنی پڑی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کووِڈ کے بعد آلات اور تنصیب کی لاگت میں اضافے نے بھی منصوبے کی لاگت بڑھانے میں کردار ادا کیا اور اس کے لئے اِضافی فنڈز کے حصول کے اِمکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔وزیر موصوفہ نے ایوان کوبتایا کہ منصوبے کی پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کی جا رہی ہے اور اس کی تکمیل میں حائل مسائل کو حل کرنے کے لئے تمام شراکت داروںکے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ بھی منعقد کی جا چکی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ اِنتظامی منظوری کا عمل پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے اور یہ ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر سے نظرثانی شدہ ڈِی پی آر موصول اور اس کی جانچ کے بعد دی جائے گی۔وزیر موصوفہ نے پہلگام، سلار اورعیشمقام کے پرائمری ہیلتھ سینٹرز کو سب ڈِسٹرکٹ ہسپتالوں میں اَپ گریڈ کرنے کے حوالے سے ایک ضمنی سوال کا جوابط دیتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال ایسی کوئی تجویز زیر غورنہیں ہے کیوں کہ محکمہ اس وقت موجودہ طبی سہولیات کو مستحکم اور مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔اُنہوں نے آئی پی ایچ ایس۔2022 کے معیارات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جن اَضلاع کی آبادی پانچ لاکھ سے کم ہے اور وہاں پہلے سے ایک فعال ڈِسٹرکٹ ہسپتال موجود ہے ،انہیں سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال ( ایس ڈِی ایچ) کی ضرورت نہیں ہے ۔پانچ سے دس لاکھ آبادی والے اَضلاع میں ایک ایس ڈِی ایچ ہو سکتا ہے جبکہ جامع ثانوی طبی خدمات فراہم کرنے کے لئے ہر مزید دس لاکھ آبادی کے لئے ایک اِضافی ایس ڈِی ایچ پر غور کیا جا سکتا ہے۔وزیر نے کہا کہ اس اصول کے تحت 20 لاکھ تک آبادی والے ضلع میں ایک ڈِسٹرکٹ ہسپتال اور دو ایس ڈِی ایچ ہو سکتے ہیں جبکہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی آئی پی ایچ ایس۔2022 کے تحت مقررہ حد سے زیادہ ایس ڈِی ایچ موجود ہیں۔