چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میںنیشنل واٹر ویز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میںنیشنل واٹر ویز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا

اگلے برس عوامی اِستعمال کیلئے تین آبی گزرگاہوں کو فعال کرنے کا ہدف ، صوبائی کمشنروں کو پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے اور رُکاوٹوں کو دُور کرنے کی ہدایت

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں نیشنل واٹر ویز کی ترقی اورعملی شکل دینے کی تیاری کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔اُنہوں نے ’’اِنڈین پورٹ ریل اینڈ روپ وے کارپوریشن لمیٹڈ (آئی پی آر سی ایل) کے ذریعے تیار کئے جانے والے زمینی بنیادی ڈھانچے اور’ اِن لینڈ واٹر ویز اَتھارٹی آف اِنڈیا (آئی ڈبلیو اے آئی) کی جانب سے دریا ئی ماحولیاتی نظام اور نیوی گیشن سہولیات کی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) اور چیئرپرسن آئی ڈبلیو اے آئی کے علاوہ متعلقہ صوبائی کمشنروں، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، جی جی ایم ، آئی پی آر سی ایل اور متعلقہ محکموں و ایجنسیوںکے دیگرکئی اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے صوبائی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے متعلقہ صوبوں میں نیشنل واٹر ویز کے منصوبوں کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور وقتاً فوقتاً موقع پر جا کر کام کا معائینہ بھی کریں تاکہ مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے اور منصوبوں پر کام بلا رُکاوٹ جاری رہے۔اُنہوں نے کہا کہ منصوبوں کو درپیش زیادہ تر مسائل معمولی نوعیت کے ہیں اور انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔ متعلقہ صوبائی اِنتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عمل آوری ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ان مسائل کو فوری طور پر حل کرے۔اَتل ڈولو نے نیشنل واٹر ویز میں سیاحت اور اربن موبائلٹی کے وسیع اِمکانات کو بھی اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ دریائی کروز سیاحوں کے لئے ایک بڑی کشش بن سکتے ہیںجبکہ گنجان آبادشہری علاقوں میں یہ آمدورفت کا ایک متبادل ذریعہ بھی فراہم کریں گے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ آبی گزرگاہوں کی ترقی کا منصوبہ اس طرح بنایا جائے کہ اس سے دریائی سیاحت کو فروغ ملے، مسافروں کی آمدورفت میں آسانی ہو اور سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے جبکہ سیاحوں اور مسافروں دونوں کے لئے محفوظ، پُرکشش اوردیرپاسفری سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔چیف سیکرٹری نے آئی پی آر سی ایل اور آئی ڈبلیو اے آئی سے کہاکہ وہ مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق سختی سے کا م کریں اور ضروری بنیادی ڈھانچے، نیوی گیشن سہولیات اور دریا ئی ماحولیاتی نظام کیا جائے تاکہ آبی گزرگاہیں اگلے سال عوامی اِستعمال کے لیے تیار ہو سکیں۔چیئرپرسن آئی ڈبلیو اے آئی سشیل کمار لوہانی نے میٹنگ میں بتایا کہ مالی برس 2026-27 کے دوران تین بڑے قومی آبی گزرگاہوں کو فعا ل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جن میںدریائے جہلم (این ڈبلیو۔49)،دریائے چناب (این ڈبلیو۔26) اوردریائے راوی (این ڈبلیو۔84) شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہاکہ جہلم نیشنل واٹر وے اننت ناگ میں سنگم پُل سے وولر جھیل تک 110 کلومیٹر پر محیط ہے۔ چناب واٹر وے ریاسی اور اکھنور کے درمیان 53 کلومیٹر طویل ہے جبکہ راوی واٹر وے چمیرا ڈیم سے بسوہلی میں رنجیت ساگر ڈیم تک 44 کلومیٹرتک پھیلا ہوا ہے۔چیف سیکرٹری کو این ڈبلیو۔49 (جہلم) پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ سنگم سے وولر جھیل تک 106 کلومیٹر طویل دریائی کروز روٹ تجویز کیا گیا ہے جس میں پانتھہ چوک، زیرو برج، امیرا کدل، مہاراج گنج، چھتہ بل، سمبل اور گنڈ پرنگ سمیت اہم مقامات شامل ہیں۔مزید برآں، یہ بتایا گیا کہ 20 مسافروں کی گنجائش رکھنے والی 10 ہائبرڈ الیکٹرک کیٹاماران کشتیوں کے لئے 66.11 کروڑ روپے کی لاگت سے ورک آرڈر جاری کیا جا چکا ہے۔ ان کشتیوں کے ڈیزائن کی منظوری دی جا چکی ہے اور تعمیر کا کام جاری ہے جبکہ ان کی فراہمی کا ہدف مارچ 2027 ء مقرر کیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ جہلم واٹر وے کے لئے درکار تمام 52 نیوی گیشنل ایچ ڈ،ی پی اِی بوائز فراہم کئے جا چکے ہیںجبکہ آٹھ میں سے چھ کنکریٹ پونٹونز/جیٹیز کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے اورباقی ماندہ کام دسمبر 2026 ء تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔اِس کے علاوہ سنگم، پانتھہ چوک، زیرو برج، امیرا کدل،بیوپار منڈل گھاٹ، چھتہ بل ویر، سمبل اور گنڈ پرنگ میں آٹھ مسافر ،سیاحتی ٹرمنل سہولیات کی تعمیر بھی شروع کی گئی ہے اور ان کاموں کی تکمیل کا ہدف جون 2027ء مقرر کیا گیا ہے۔ ان ٹرمنلوں کا ڈیزائن مقامی کشمیری طرزِ تعمیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جا رہا ہے جبکہ ان میں جدید ساختی اور بنیادی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔این ڈبلیو۔26 (دریائے چناب) کے حوالے سے بتایا گیا کہ اِبتدائی مرحلے میں نشاندہی کردہ ٹرمنل مقامات کے درمیان کروز روٹ تیارکیا گیا ہے جبکہ ریاسی اور اَکھنور میں ٹرمنلوںکے لئے زمین آئی ڈبلیو اے آئی کے حوالے کی گئی ہے۔این ڈبلیو۔84 (دریائے راوی) کے لئے جموں کے سوہار میں کروز روٹ کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ رنجیت ساگر ڈیم کے قریب ستوائن میں ٹرمنل کے لئے زمین کی ترقی کا عمل جاری ہے۔مزید بتایا گیا کہ چناب اور راوی آبی گزرگاہوں پر تین کنکریٹ پونٹونز کی تعمیر کا کام جاری ہے جنہیں دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ ان سے متعلق زمینی بنیادی ڈھانچے کے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آرز) بھی حتمی شکل دی جا چکی ہیں۔اراضی اور سائٹ کی تیاری کے حوالے سے جی جی ایم،آئی پی آر سی ایل دیپک نے بتایا کہ ٹرمنلوں کی تعمیر کے لئے نشاندہی کردہ تمام11 اراضی کے ٹکڑے محکمہ ٹرانسپورٹ کو منتقل کئے گئے ہیں اور باضابطہ طور پرآئی ڈبلیو اے آئی کے حوالے بھی کردئیے گئے ہیں۔اِس کے علاوہ جہلم پر واقع سائٹس اَکھنور کے منڈا اور ریاسی کے تلوارہ سمیت ترقیاتی کاموں کے لئے حوالے کئے جا چکے ہیں۔ کٹھوعہ میں ڈومر/ستوائن کا باقی ماندہ اراضی کا ٹکڑا متعلقہ حکام کے ساتھ کارروائی کے مرحلے میں ہے۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولوکو مختلف یوٹی محکموں کی مربوط مداخلت کے متقاضی مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان میں نیوی گیشن کی حفاظت کے مقررہ معیار کو پورا کرنے کے لئے اوورہیڈ ایچ ٹی / ایل ٹی بجلی کی لائنوں میںرودوبدل، کوفر ڈیمز کو ہٹانا، بجلی کے کھمبوں کی منتقلی، مستقل پانی اور بجلی کے کنکشن کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی کے انتظامات اور ٹرمنل سائٹس تک جانے والی سڑکوں کی کشادگی شامل ہے۔