’ووٹ بچائو، دیش بچائو‘ ریلی میں شرکت کا ارادہ

کانگریس کے تقریباً 5,000 کارکن شرکت کریں گے/رمن بھلہ

سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر سے کانگریس کے تقریباً 5,000 رہنما اور کارکن یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ایک بڑی قومی ریلی میں شرکت کریں گے۔ پارٹی رہنماو ¿ں نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔کانگریس کی جانب سے ’ووٹ بچاو ¿، دیش بچاو ¿‘ مہم کے تحت منعقد کی جانے والی اس ریلی میں مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے کو اٹھایا جائے گا۔ پارٹی رہنماو ¿ں کے مطابق، اس ریلی میں ملک بھر سے کانگریس کے رہنماو ¿ں اور کارکنوں کے علاوہ انڈیا بلاک میں شامل جماعتوں کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔یہ بات جموں میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے پردیش کانگریس کمیٹی (PCC) کے ورکنگ صدر رمن بھلا کی قیادت میں پارٹی رہنماو ¿ں نے کہی۔رمن بھلا نے کہا، ”جموں و کشمیر کے ہر ضلع سے کانگریس کارکن ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مقررہ قومی ریلی میں شرکت کریں گے۔ اس ملک کے عوام چیف الیکشن کمشنر کے ذریعے بی جے پی کی جانب سے انتخابی نظام کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے۔“پارٹی کے چیف ترجمان نے کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی جانب سے مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے مختلف طریقوں کے خلاف چلائی جا رہی مہم کو عوام کی جانب سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ملک کے شہریوں کو یقین ہو گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت ان سرگرمیوں کے پیچھے ہے۔بھلا نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کی مایوسی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے اپنے پارٹی کارکنوں کو کانگریس کے خلاف جوابی مہم شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اسی سلسلے میں مقامی بی جے پی یونٹ نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو سے زیادہ مرتبہ جموں میں کانگریس ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی ہے۔ان کے مطابق، اپوزیشن کی ’ووٹ بچاو ¿، دیش بچاو ¿‘ مہم کو ملنے والی وسیع حمایت کے پیش نظر بی جے پی کی مایوسی میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔جموں رورل کانگریس کے صدر نیرج کنڈن نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اور بی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کے انتخاب کے لیے قائم سلیکشن پینل سے چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کو خارج کرنے کے مقصد سے قانون میں ترمیم کرکے انتخابی عمل میں مبینہ ہیرا پھیری کی پہلے سے منصوبہ بندی کی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کی ہدایات کے برخلاف تھا۔کنڈن نے الزام لگایا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (SIR) اور دیگر طریقوں کے ذریعے ووٹوں میں مبینہ ہیرا پھیری کی جا رہی ہے اور کروڑوں حقیقی ووٹروں کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے گزشتہ ایک سال کے دوران وسیع تحقیقات کے بعد مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا ہے۔کنڈن نے یہ الزام بھی لگایا کہ بی جے پی حکومت نے گیانیش کمار کو ریٹائرمنٹ کے بعد خصوصی قانونی تحفظ فراہم کیا، تاکہ انتخابی عمل میں مبینہ ہیرا پھیری کو آسان بنایا جا سکے۔جموں اربن کانگریس کے صدر یوگیش ساہنی نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔انہوں نے جموں میں بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اپنے حلقوں کی ترقی کے لیے مختص کیے گئے حلقہ جاتی ترقیاتی فنڈز (Constituency Development Funds) کے مبینہ طور پر ناکافی استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔سابق وزیر مولا رام نے بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت ملک کی جمہوریت میں ووٹ دینے کے بنیادی حق پر حملہ کر رہی ہے اور ملک بھر میں مبینہ طور پر ’ووٹ چوری‘ میں ملوث ہے۔انہوں نے حالیہ بارشوں سے جموں میں کسانوں کی دھان کی فصل کو پہنچنے والے نقصان کا معاملہ بھی اٹھایا اور متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔