سری نگر//جموں وکشمیرکادورہ کرنے والے مرکزی وزراء کی جانب سے پیش کردہ جانکاری ، تاثرات اورتجاویز کے پس منظرمرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن 23اور24نومبر کوجموں وکشمیرکا2روزہ دورہ کررہی ہیں ،جس دوران خاتون وزیرخزانہ جموں اورسری نگرمیں کاروباری، تجارتی اور صنعتی وفود نیز دیگرمتعلقین کیساتھ میٹنگیں کرنے کیساتھ ساتھ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہاکی موجودگی میں ہونے والی2اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگوںمیں بھی شرکت کررہی ہیں ۔خیال رہے یہ دفعہ370کی تنسیخ اور سابقہ ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے بعد مرکزی وزیرخزانہ کاپہلا دورہ جموں وکشمیرہوگا۔جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے23 نومبر کو جموں و کشمیر کے2روزہ دورے پر پہنچنے کا امکان ہے۔ایک میڈیا رپورٹ میںسرکاری ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ موصوفہ مرکزی وزیر خزانہ اپنے2روزہ دورہ کیلئے 23 نومبر کو جموں پہنچے گی۔ذرائع نے بتایا کہ نرملا سیتا رمن دفعہ 370 کی تنسیخ اور کورونا وبا کے بعد متاثرہ معیشت کی صورتحال کا جائزہ لیں گی۔مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ مرکزی وزیر خزانہ اپنے دورے کے پہلے روز 23نومبرکوجموں ہاٹ میں تجارت و صنعت سے وابستہ وفود کے ساتھ بات چیت کریں گی،جسکے بعداگلے روز یعنی24نومبر کو مرکزی وزیر خزانہ ایس کے آئی سی سی سری نگرمیں بھی اسی طرزکی ایک میٹنگ میں شرکت کریں گی۔ذرائع نے مزید کہا کہ وہ پہلے دن جموں ہاٹ میں کاروباری، تجارتی اور صنعتی وفود نیز دیگرمتعلقین کے ساتھ بات چیت کریں گی۔انہوں نے کہاکہ یہ دورہ مرکزی وزراء کی طرف سے وزیر خزانہ کو دئیے گئے تاثرات کے پس منظر میں طے کیا گیا تھا جو ان کے یونین ٹریٹر ی تک حال ہی میں ختم ہونے والے عوامی رسائی کے پروگرام کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن جموں وکشمیر میں سرمایہ کاری، ترقی اور مینو فکچرنگ سرگرمیوں سے متعلق معاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کریںگی۔جموں وکشمیر میں صنعت کار 31مارچ2021 تک مقامی موجودہ MSME یونٹس کوSGST کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ صنعت کارایس آرائو نمبر519/521/63اور431کے تحت صنعتی اکائیوں کی طرف سے مقررہ وقت میں GST بازادائیگی اور بجٹ سپورٹ دعوے فائل کرنے کیلئے ایک وقتی رعایت اور یونین ٹیریٹری سے باہر واقع بینکوں کے کاروباری اکائیوں سے کریڈٹ کی سہولت رکھنے والی صنعتی اکائیوں کو 5 سود کی امدادی فائدہ کی واپسی میں بھی رعایت چاہتے ہیں۔خیال رہے کوروناوباء کی وجہ سے، جموں وکشمیر میں کاروبار کو بحال کرنے کیلئے یوٹی حکومت کی جانب سے ماضی قریب میں1350 کروڑ روپے کے بحالی پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا تھا جس میں پی ڈی ڈی اور PHEکے واجبات کی بعض چھوٹ کے علاوہ 5فیصد سود کی رعایت بھی شامل تھی۔مرکزی وزیر خزانہ نے گزشتہ ہفتے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، وزرائے خزانہ کے ساتھ ورچوئل کانفرنس کے ذریعے بات چیت کی تھی، جس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول اور سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، کو بڑھانا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارمن 23اور24نومبر کواپنے 2روزہ دورے کے دوران بالترتیب جموں اور سری نگر میں کاروباری، تجارتی اور صنعتی وفود نیز دیگرمتعلقین کیساتھ ہونے والی جائزہ میٹنگوں کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکے ذریعے اجاگر کئے گئے صنعتی، معاشی وکاروباری مسائل توجہ کا مرکز ہوں گے۔










