مرکزی داخلہ سیکرٹری گووند موہن کا امرناتھ یاترا کے سیکورٹی انتظامات کا حتمی جائزہ

مرکزی داخلہ سیکرٹری گووند موہن کا امرناتھ یاترا کے سیکورٹی انتظامات کا حتمی جائزہ

تمام ایجنسیوں کو مکمل چوکسی برقرار رکھنے کی ہدایت، جدید نگرانی نظام اور نو فلائنگ زون نافذ

سرینگر//سالانہ شری امرناتھ یاترا کے آغاز سے قبل سیکورٹی اور انتظامی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں مرکزی داخلہ سیکرٹری گووند موہن نے یاترا کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں یاتریوں کی حفاظت، ٹریفک مینجمنٹ، طبی سہولیات، انٹیلی جنس رابطہ کاری، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے منصوبوں اور مجموعی سیکورٹی انتظامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر سری نگر میں منعقدہ اس اہم اجلاس میں جموں و کشمیر کی سول انتظامیہ، پولیس، فوج، مرکزی نیم فوجی دستوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری اٹل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل پولیس نالین پربھات، انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ تپن ڈیکا، شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، فوج کی مختلف کورز کے کمانڈرز، سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور ایس ایس بی کے ڈائریکٹر جنرلز سمیت دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ذرائع کے مطابق مرکزی داخلہ سیکرٹری ہفتہ کی صبح سری نگر پہنچے اور اجلاس کی صدارت کے بعد شام کو نئی دہلی واپس روانہ ہوگئے۔ یہ اجلاس رواں ماہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں منعقد ہونے والے جائزہ اجلاس کا تسلسل تھا، جس میں امرناتھ یاترا کے انتظامات اور سیکورٹی تیاریوں کا ابتدائی جائزہ لیا گیا تھا۔اجلاس میں حکام نے گووند موہن کو بتایا کہ 57 روزہ امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو شراون پورنیما اور رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔ یاترا کے پیش نظر پہلگام اور بالتل کے روایتی راستوں سمیت تمام حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی تقریباً مکمل ہو چکی ہے جبکہ یاترا سے وابستہ تمام اہم مقامات کی سیکورٹی جانچ اور صفائی کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔اعلیٰ حکام نے اجلاس میں بتایا کہ یاتریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اس سال بھی ایک مضبوط تین سطحی سیکورٹی نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس سیکورٹی گرڈ میں جموں و کشمیر پولیس، فوج، سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور دیگر مرکزی فورسز مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔ سیکورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے، جس میں آر ایف آئی ڈی ٹریکنگ سسٹم، ڈرون نگرانی، فیشل ریکگنیشن کیمرے اور دیگر جدید آلات شامل ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم جولائی سے پوری یاترا گاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو “نو فلائنگ زون” قرار دیا جائے گا۔ اس دوران کسی بھی قسم کی نجی یا غیر مجاز فضائی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یاترا کے دوران سیکورٹی خطرات کو کم کرنے اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یاترا کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے مختلف مقامات پر خصوصی کوئیک رسپانس ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر فرضی مشقیں علاقائی نگرانی، سرچ آپریشنز اور حساس علاقوں میں اضافی گشت کا سلسلہ بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔ یاترا سے وابستہ تمام سروس فراہم کنندگان، جن میں پونی والوں، پورٹروں، ڈرائیوروں اور عارضی ملازمین شامل ہیں، کی تصدیق اور جانچ کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے۔مرکزی داخلہ سیکرٹری کو طبی اور ہنگامی سہولیات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ یاترا کے راستوں پر طبی مراکز، ایمبولینس سروس، ایمرجنسی ریسکیو ٹیمیں، ہیلی کاپٹر امدادی سہولیات اور خصوصی طبی عملہ تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی طبی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ خراب موسم، لینڈ سلائیڈنگ یا دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے بھی خصوصی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اجلاس میں جموں سے لے کر امرناتھ غار تک کے پورے سفر کے دوران سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ لکھن پور، جو جموں و کشمیر کا داخلی دروازہ تصور کیا جاتا ہے، سے لے کر جموں، ادھم پور، رام بن، بانہال، قاضی گنڈ، اننت ناگ، نون ون اور بالتل تک سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس، ریلوے اسٹیشن، ہوائی اڈے، بس اڈے اور دیگر اہم مقامات پر بھی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔اجلاس میں اس پہلو پر بھی خصوصی توجہ دی گئی کہ اس سال پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں یاتری ریلوے کے ذریعے جموں سے کشمیر تک سفر کریں گے۔ اس تناظر میں ریلوے لائن، اسٹیشنوں اور متعلقہ تنصیبات کی سیکورٹی کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ یاتریوں کا سفر محفوظ اور پْرامن رہے۔مرکزی داخلہ سیکرٹری نے اجلاس کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ یاتریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے تمام اداروں کو مکمل ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ یاترا کے دوران چوبیس گھنٹے نگرانی برقرار رکھی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں جموں و کشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی گئی ہے۔ سیکورٹی ادارے یاترا کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔دوسری جانب شری امرناتھ جی شرائن بورڈ اور انتظامیہ نے یاتریوں کیلئے رجسٹریشن، رہائش، ٹرانسپورٹ، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی اور طبی سہولیات کے جامع انتظامات مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی لاکھوں عقیدت مند بابا برفانی کے درشن کیلئے جموں و کشمیر کا رخ کریں گے۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے بھی مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یاتریوں کا روایتی کشمیری مہمان نوازی کے ساتھ استقبال کریں اور اس مذہبی سفر کو باہمی بھائی چارے، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔