لاری پورہ کے گورنمنٹ ہائی سکول میں 185 بچے زیر تعلیم پڑاھنے کے لئے صرف 12 ٹیچر چار سالوں سے بنا ہیڈماسٹر کے

سکولی عمارت محض 10 کمروں پر مشتمل3 دفتری کام کیلئے صرف 7 کمروں میں بچے پڑھائے جاتے ہیں

سرینگر/// جنوبی کشمیر کے لاری پورہ کلان پہلگام میں گورنمنٹ ہائی سکول میں زیر تعلیم 185 بچے پڑاھنے کے لئے صرف 12 ٹیچر اور 7 کمروں میں پڑھائے جارہے ہیں جہاں پر نہ سوشل دوری کا کوئی پاس و لحاظ رہتا ہے اورناہی طلبہ ٹھیک طرح سے پڑھائی کرپارہے ہیں۔ اس صورتحال پر مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں قائم سکولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ و?س آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکول سرکار اور متعلقہ محکمہ کی نظروں سے ا جھل ہیں جہاں پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تو ہے لیکن انہیں سہولیات مئیسر نہیں ہے جس کی وجہ سے دور درازعلاقوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام زون میں لاری پورہ کلان میں 1972 میں پرائمری سکول قائم کیاگیا جس کو1999 میں اپ گریڈ کرکے پھر مڈل سکول بنایا گیا اور پھر ہائی سکول بنایاگیا لیکن مڈل سکول کیلئے جو ا س وقت عمارت تھی اسی عمارت کے 10 کمروں میں مڈل سکول کو بھی چلایا جارہا ہے۔لاری پورہ چونکہ ایک وسیع آبادی پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے سکول میں بچوں کا رول بھی کافی ہے۔ سکول میں 185سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں سکول میں عملہ کی قلت بھی ہے لیکن سکولی عمارت 10 کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے 3 دفتری کام کاج کیلئے ہے جبکہ دیگر 7 کمروں میں11 کلاسوں کو پڑھایا جارہا ہے۔ 7 کمروں میں 185بچے جب ایک ساتھ جمع کردئے جائیں گے تو کلاس روم میں پڑھنے اور پڑھانے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ سکول میں تعینات اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکول میں بچوں کو پڑھانے کا کام بہت مشکل بن جاتا ہے کیوں کہ ایک ہی کمرے میں دو تین کلاسوں کے بچوں کو رکھ کر بچوں کو پڑھانا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب موسم بہتر ہوتا ہے تو ہم بچوں کو سکول صحن میں پڑھاتے ہیں جو کلاسوں کے بنسبت بہتر ہوتا ہے لیکن جب موسم خراب ہوتا ہے تو ہمارے سکول کے کلاسوں میں اس قدر شور و غل پیدا ہوتا ہے کہ ہم مجبور ہوکر کچھ کلاسوں کو چھٹی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کیلئے مزید کمروں کے تعمیر یا دوسری عمارت کے حوالے سے کئی بار تحریری طور پر سی ای او سے مطالبہ کیا گیا تاہم محکمہ کی جانب سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ اس دوران مقامی لوگوں نے وی او آئی نمائندے امان ملک بتایا کہ سرکار اور محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے سکول کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ا نہوںنے کہا کہ اس سکول کو سرکار اور محکمہ نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں آبادی مزدو طبقہ سے وابستہ ہے جو بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل نہیں کرسکتے لیکن سرکاری سکولوں میں بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات دستیاب نہ ہونے سے ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔