ہم وہ سپیکر چاہتے ہیں جو ایوان میں ہماری قرار دادوں پر بحث کی اجازت دیں / سجاد غنی لون
سرینگر // جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وقف ترمیمی بل کو لیکر جاری شدید ہنگامہ آرائی کے بیچ پیپلز کانفرنس کے لیڈر سجاد غنی لون کی قیادت میں اپوزیشن کے تین قانون سازوں نے اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔سی این آئی کے مطابق پیپلز کانفرنس کے لیڈر سجاد غنی لون کی قیادت میں اپوزیشن کے تین قانون سازوں نے منگل کو جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔سجاد لون نے الزام لگایا کہ اسپیکر اسمبلی میں وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف اپنی رائے ظاہر کرنے میں ’’رکاوٹ ‘‘ بن گئے ہیں۔خیال رہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں اس معاملے پر مسلسل دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد اسپیکر نے دن کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی۔اس موقعہ پر سجاد غنی لون نے اسمبلی کے سیکرٹری کو لکھے گئے ایک خط میں لکھا ‘‘ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قواعد و ضوابط اور طرز عمل کے قاعدہ 215(A) کی پیروی کرتے ہوئے، ہم اس کے ذریعہ اسمبلی کے اسپیکر کی برطرفی کے لیے ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ارادے کا یہ نوٹس جمع کراتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ یہ فیصلہ سپیکر کے اقدامات پر ایوان کے اندر بڑے پیمانے پر غم و غصے سے پیدا ہوا ہے، بشمول تحریک التواء پر بحث کو مسترد کرنا اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پیش کردہ قرارداد پر غور کرنے سے انکار کرنا ہے ‘ ‘ اس طرح کا طرز عمل اس معزز ادارے کو چلانے والے جمہوری اصولوں اور طریقہ کار کو مجروح کرتا ہے، جس سے اس قرارداد کو اس معاملے کو حل کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ پی ڈی پی کے قانون ساز فیاض احمد میر (کپوارہ) اور رفیق احمد نائیک (ترال) خط کے دیگر دو دستخط کنندگان ہیں۔ دھر سجاد غنی لون نے ایکس پر لکھا ’’ہم نے سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ وہ وقف بل کے خلاف ہماری رائے کا اظہار کرنے میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ ‘‘ ہم نے سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ وہ وقف بل کے خلاف ہماری رائے کا اظہار کرنے میں رکاوٹ بن گیا ہے۔اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لون نے احتجاج کرنے والے نیشنل کانفرنس کے اراکین سے اسپیکر کے خلاف تحریک کی حمایت کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا ’’ ہم این سی ممبران سے تحریک کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ اگر وہ (حمایت نہیں کرتے) تو وہ بے نقاب ہو جائیں گے‘‘۔










